
نئی دہلی، 18 جون (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے کوچنگ ڈائریکٹر خان سر اور دوسرے کوچنگ ٹیچر کے مبینہ توہین آمیز تبصروں کو لے کر دائر ہتکِ عزت کی عرضی پر آج بھی ٹی وی صحافی کو فوری طور پر کوئی بھی راحت دینے سے انکار کر دیا۔ جسٹس تیجس کریا کی صدارت والی ویکیشن بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت 2 جولائی کو کرنے کا حکم دیا۔
اس سے پہلے 8 جون کو بھی ہائی کورٹ نے خاتون صحافی کو کوئی عبوری راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے خان سر سمیت دوسرے کوچنگ ڈائریکٹروں کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ٹی وی صحافی کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر نشر کی گئی ویڈیوز اور پوسٹس میں ان کے لیے بکاو صحافی، چاٹوکار اور دلی جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، ان پر دلال کرنے اور فیک نیوز کی دکان چلانے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ ٹی وی صحافی نے کہا ہے کہ اس پوسٹ کی وجہ سے ان کے خاندان کو ہراسانی اور سیکورٹی سے متعلق خدشات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دراصل عرضی گزار ٹی وی صحافی نے اپنے نیوز چینل پر ’اسٹار ٹیچرز‘ نامی اپنا شو چلایا تھا۔ جس میں انہوں نے کوچنگ ڈائریکٹروں کو دو کوڑی کا ٹیچر کہا تھا۔ اس کے بعد اس معاملے پر ہنگامہ برپا ہو گیا اور کئی کوچنگ ڈائریکٹروں نے ویڈیوز بنا کر متعلقہ صحافی کی سخت نکتہ چینی کی۔ سوشل میڈیا پر اس کو لے کر موافقت اور مخالفت میں کافی بحث و تکرار دیکھنے کو ملی۔ اس کے بعد متعلقہ صحافی اور ان کی میڈیا تنظیم نے خان سر اور کچھ دوسرے کوچنگ ڈائریکٹروں کے خلاف ہتکِ عزت کی عرضی دائر کی۔ ہتکِ عزت کی اس عرضی میں متعلقہ صحافی اور نیوز چینل نے دو کروڑ روپے کے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن