
آر ایس ایس دفتر پر پیٹرول بم حملے کا ملزم مانڈر میں تصادم کے بعد زخمی، آئی ایس آئی کی شمولیت کے الزام کی جانچ جاری
۔ آئی ایس آئی کے کہنے پر آر ایس ایس دفتر پر حملہ کیا گیا تھا
رانچی، 18 جون (ہ س)۔ رانچی کے چٹیا تھانہ علاقے میں واقع نوارن پور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے دفتر پر پیٹرول بم سے حملے کے معاملے میں گرفتار ایک ملزم جمعرات کو پولیس حراست سے فرار ہو گیا۔ بعد میں مانڈر ٹول پلازہ کے پاس پولیس کے ساتھ ہوئے تصادم میں وہ زخمی ہو گیا۔ پولیس نے اسے علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا ہے۔
پولیس کے مطابق، سیف نامی ملزم کو کوتوالی تھانے میں پوچھ گچھ کے لیے رکھا گیا تھا۔ جمعرات کی دوپہر اس نے باتھ روم جانے کی اجازت لی۔ باتھ روم کے اندر نل کھول کر اس نے پہریدار کو دھوکے میں رکھا اور کھڑکی کے راستے جھاڑیوں کے سہارے تھانے سے فرار ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی رانچی پولیس میں ہلچل مچ گئی۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سے لے کر سٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سٹی ایس پی) اور مختلف تھانوں کی پولیس ٹیموں نے اس کی تلاش شروع کر دی۔
پولیس نے بتایا کہ مانڈر ٹول پلازہ کے پاس اس کی لوکیشن ملنے پر گھیرا بندی کی گئی۔ اس دوران ملزم نے پولیس کا ہتھیار چھیننے اور فائرنگ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد پولیس نے دفاعِ خود میں جوابی کارروائی کی، جس میں وہ زخمی ہو گیا۔ رانچی کے سٹی ایس پی پارس رانا نے بتایا کہ گھیرا بندی کے دوران ملزم کی جانب سے پولیس پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے دفاعِ خود میں گولی چلائی۔ زخمی ملزم کو فوری طور پر ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
سٹی ایس پی نے بتایا کہ آر ایس ایس دفتر پر پیٹرول بم حملے کے معاملے میں اب تک تین ملزموں امان انصاری، سیف اور سیان خان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ امان انصاری حال ہی میں دبئی سے ہندوستان لوٹا تھا۔ اس کا دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی سے رابطہ ہے۔ آئی ایس آئی کے کہنے پر ہی آر ایس ایس دفتر پر حملہ کیا گیا تھا۔ اسے اس سے بڑا بھی کچھ کرنا تھا۔ فی الحال پولیس پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ پڑتال کر رہی ہے اور ملزموں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔
پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ابتدائی جانچ میں کچھ اہم معلومات سامنے آئی ہیں، جن میں مبینہ بین الاقوامی رابطوں کی بات شامل ہے۔ تاہم، کسی بھی تنظیم یا غیر ملکی ایجنسی کی شمولیت کی باضابطہ تصدیق ابھی نہیں کی گئی ہے اور جانچ جاری ہے۔ حکام کے مطابق، پورے معاملے کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے اور مختلف پہلووں پر تفتیش جاری ہے۔ معاملے میں مزید کارروائی شواہد کی بنیاد پر کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن