سی بی آئی نے بینک فراڈ کیس کے سلسلے میں کولکاتہ میں 8 مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے
نئی دہلی، 18 جون (ہ س)۔ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) نے بدھ (17 جون) کو کولکاتہ میں آٹھ مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے جن میں پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) سے منسلک بینک فراڈ کے تین الگ الگ معاملات ہیں۔ یہ چھاپے میسرز تانتیا کنسٹرکشن لمیٹڈ
سی بی آئی نے بینک فراڈ کیس کے سلسلے میں کولکاتہ میں 8 مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے


نئی دہلی، 18 جون (ہ س)۔

سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) نے بدھ (17 جون) کو کولکاتہ میں آٹھ مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے جن میں پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) سے منسلک بینک فراڈ کے تین الگ الگ معاملات ہیں۔ یہ چھاپے میسرز تانتیا کنسٹرکشن لمیٹڈ، میسرز برہما الائیز لمیٹڈ، اور میسرز امرت فیڈز لمیٹڈ کے خلاف درج مقدمات کے سلسلے میں مارے گئے۔ ان تینوں معاملات کے ذریعے پنجاب نیشنل بینک سے کل 191 کروڑ روپے کا فراڈ کیا گیا ہے۔

سی بی آئی کے مطابق پہلے معاملے میں ایجنسی نے میسرز تانتیا کنسٹرکشن لمیٹڈ کے ڈائریکٹروں کے رہائشی احاطے کی تلاشی لی۔ یہ کیس کیش کریڈٹ اور بینک سے حاصل کردہ مدتی قرض کی سہولیات میں پنجاب نیشنل بینک کے ساتھ 73 کروڑ روپے کے فراڈ سے متعلق ہے۔ ملزمان نے اپنی ذیلی کمپنیوں اور ایسوسی ایٹ کمپنیوں کی طویل مدتی سرمائے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بینک سے موصول ہونے والی رقوم کو غیر معیاری اکاو¿نٹس کے ذریعے ایک بڑی رقمٹرانسفر کر ڈائیورٹ کیا تھا۔

دوسرے معاملے میں، میسرز برہما الائیز لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز کے رہائشی احاطے پر چھاپہ مارا گیا۔ یہ معاملہ بینک سے حاصل کی گئی کیش کریڈٹ کی سہولت کے ذریعے پی این بی کو 58 کروڑ کے نقصان سے متعلق ہے۔ ملزمان نے اپنی گروپ کمپنی کے ایکویٹی شیئرز میں سرمایہ کاری کرکے، دوسرے بینکوں میں کرنٹ اکاو¿نٹس رکھ کر اور اکاو¿نٹس بک میں ہیرا پھیری کرکے رقوم کا غلط استعمال کیا۔

تیسرا کیس میسرز امرت فیڈز لمیٹڈ کا ہے، جہاں کمپنی کے ڈائریکٹرز کے رہائشی احاطے کی تلاشی لی گئی۔ کمپنی پر نقد کریڈٹ اور ٹرم لون کی سہولیات میں پی این بی کو 60 کروڑ کا دھوکہ دینے کا الزام ہے۔ ان پر کاروباری مقاصد کے لیے موصول ہونے والے بینک فنڈز کے مجرمانہ غلط استعمال، بے ایمانی سے عوامی فنڈز کو ذاتی استعمال کے لیے ہٹانے، اور کمپنی کے فنڈز کو اس کی ایسوسی ایٹ اور سسٹرس کنسرن کمپنیوں کے فائدے کے لیے ہٹانے کا الزام ہے۔ مزید برآں، کمپنی نے اپنے ٹھوس اثاثے بھی قرض دہندگان (بینکوں) کی رضامندی کے بغیر فروخت کر دیے۔

سی بی آئی نے کہا کہ ان تمام مقامات پر چھاپوں کے دوران کئی مجرمانہ دستاویزات ضبط کی گئیں۔ ان تینوں کیسز میں تفتیش جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande