حکومت ہیلپ لائن نمبر 1930 کو مزید مضبوط کرے گی، امت شاہ نے لیاجائزہ
نئی دہلی، 17 جون (ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 کا جائزہ لیتے ہوئے اسے مزید بہتر بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ بدھ کو منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں وزیر داخلہ نے کہا کہ 1930 ہیلپ لائن آج سائبر کرائم بالخصوص آن
شاہ


نئی دہلی، 17 جون (ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 کا جائزہ لیتے ہوئے اسے مزید بہتر بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ بدھ کو منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں وزیر داخلہ نے کہا کہ 1930 ہیلپ لائن آج سائبر کرائم بالخصوص آن لائن مالیاتی فراڈ کی شکایات کے اندراج کا ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی کسی بھی شکایت کو نظر انداز نہ کیا جائے اور ہر متاثرین کو بروقت امداد فراہم کی جائے۔

امت شاہ نے کہا کہ 1930 ہیلپ لائن کو مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹکنالوجی سے لیس ہونا چاہئے، تاکہ شکایات جلد درج ہوں، کالیں صحیح جگہ پر پہنچیں اور لوگوں کو جلد مدد مل سکے۔

حکومت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کام کرنے والے 1930 کال سینٹروں کو بھی تکنیکی طور پر مضبوط بنائے گی۔ اس میں بہتر آلات اور ضروری سہولیات کی فراہمی شامل ہوگی۔ ریاستوں سے یہ بھی کہا جائے گا کہ وہ شکایات کے بروقت حل کو یقینی بنانے کے لیے مناسب عملے کو یقینی بنائیں۔

اس میٹنگ میں وزیر داخلہ نے ایک بڑے قومی 1930 کال سینٹر کے قیام کی بھی ہدایت کی۔ یہ مرکز ان کالوں کو سنبھالے گا جن کا ریاستی کال سینٹرز پر جواب نہیں دیا جاتا ہے، تاکہ کوئی شکایت چھوٹ نہ جائے۔

اجلاس میں سائبر مالیاتی فراڈ سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے سٹیزن فنانشل سائبر فراڈ رپورٹنگ اور مینجمنٹ سسٹم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ نظام بینکوں کو فوری طور پر فراڈ فنڈز کو روکنے اور متاثرین کو رقوم واپس کرنے میں مدد کرتا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ سائبر فراڈ کے معاملات میں پھنسی رقم کی واپسی اور شکایات کو دور کرنے کے لیے بنائے گئے نظام سے اب تک تقریباً ایک لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سائبر کریمنل اکثر خچر بینک اکاو¿نٹس (دوسروں کے نام پر استعمال ہونے والے اکاو¿نٹس) استعمال کرتے ہیں۔ ایسے اکاو¿نٹس کے خلاف سخت کارروائی سے سائبر کرائم کو روکا جائے گا۔

مرکزی حکومت، ریاستی حکومتیں، پولیس ایجنسیاں، بینک اور مالیاتی ادارے ملک کی سائبر سیکورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے تاکہ آن لائن دھوکہ دہی کے متاثرین کو فوری راحت مل سکے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande