ڈیجیٹل اریسٹ کا خوف دکھا کر کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی، کانپور میں چھ سائبر مجرم گرفتار
کانپور، 15 جون (ہ س)۔ کانپور کمشنریٹ کی شیوراج پور پولیس اور سائبر کرائم سیل نے پیر کے روز ایک ایسے سائبر گینگ کا پردہ فاش کیا ہے جو خود کو پولیس، سی بی آئی اور دیگر تفتیشی ایجنسیوں کا افسر ظاہر کرکے لوگوں کو ڈیجیٹل اریسٹ کا خوف دکھاتا تھا۔ گینگ
ڈیجیٹل اریسٹ کا خوف دکھا کر کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی، کانپور میں چھ سائبر مجرم گرفتار


کانپور، 15 جون (ہ س)۔ کانپور کمشنریٹ کی شیوراج پور پولیس اور سائبر کرائم سیل نے پیر کے روز ایک ایسے سائبر گینگ کا پردہ فاش کیا ہے جو خود کو پولیس، سی بی آئی اور دیگر تفتیشی ایجنسیوں کا افسر ظاہر کرکے لوگوں کو ڈیجیٹل اریسٹ کا خوف دکھاتا تھا۔ گینگ کے ارکان ویڈیو کال اور میسجنگ ایپس کے ذریعے لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے تھے اور گرفتاری یا قانونی کارروائی کا ڈر پیدا کرکے ان سے بھاری رقم وصول کرتے تھے۔ مشترکہ کارروائی میں پولیس نے چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں اشرف خان، سورج کمار، راجن کٹیار، راجدیپ، بھیم رتن کمار اور کمل شامل ہیں۔ تمام ملزمان کو شیوراج پور علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ ان کے قبضے سے پانچ موبائل فون، ایک ٹیبلٹ، دس بینک پاس بکس، دو چیک بکس اور بارہ ڈیبٹ کارڈ برآمد کیے گئے ہیں۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ گینگ سائبر دھوکہ دہی سے حاصل ہونے والی رقم کو براہِ راست اپنے پاس نہیں رکھتا تھا۔ پہلے رقم مختلف بینک کھاتوں میں منتقل کرائی جاتی تھی، پھر اسے نکال کر کرپٹو کرنسی یو ایس ڈی ٹی میں تبدیل کر دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد ٹیلی گرام پر پی ٹو پی ٹریڈنگ کے ذریعے رقم کو دوبارہ بھارتی کرنسی میں تبدیل کیا جاتا تھا تاکہ رقم کے اصل ماخذ کو چھپایا جا سکے۔

ڈی سی پی مغرب ایس ایم قاسم عابدی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان طویل عرصے سے منظم انداز میں سائبر جرائم میں ملوث تھے۔ تفتیش کے دوران ایسے سیکڑوں بینک کھاتوں کی معلومات ملی ہیں جنہیں دھوکہ دہی کی رقم کے لین دین کے لیے استعمال کیا گیا۔ گینگ کے نیٹ ورک اور اس سے وابستہ دیگر افراد کی بھی تلاش جاری ہے۔

پولیس تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ یہ گینگ گزشتہ تین برسوں سے سرگرم تھا۔ نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل اور پرتِبِمب پورٹل پر ان کے استعمال کردہ کھاتوں سے متعلق تقریباً ڈھائی ہزار شکایات درج پائی گئی ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں تقریباً پندرہ کروڑ روپے سے زائد کی سائبر دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھیں گی، دھوکہ دہی کی اصل رقم اس سے بھی زیادہ سامنے آ سکتی ہے۔

ملزمان دیہی علاقوں اور کم تعلیم یافتہ افراد کو بینک کھاتے کھلوانے کے لیے آمادہ کرتے تھے۔ اس کے بدلے انہیں معمولی کمیشن دیا جاتا تھا۔ بعد میں انہی کھاتوں کا استعمال سائبر جرائم سے حاصل شدہ رقم کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ کھاتہ منجمد ہونے یا پولیس کی نظر پڑنے کی صورت میں ملزمان پاس بک اور اے ٹی ایم کارڈ تباہ کر دیتے تھے تاکہ شواہد مٹائے جا سکیں۔

پولیس کے مطابق اس گینگ کے خلاف اتر پردیش کے علاوہ دہلی، بہار، مہاراشٹر، گجرات، تلنگانہ، تمل ناڈو، اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں بھی شکایات درج ہیں۔ گینگ کا پردہ فاش کرنے والی ٹیم کو ڈی سی پی مغرب نے پچیس ہزار روپے کے نقد انعام سے نوازا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande