
ممبئی ، 14 جون (ہ س) ۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا ہے کہ کسی بھی سماج کو دوسرے سماج کے مقابل کھڑا کرنا یا دو برادریوں کے درمیان نفرت اور کشیدگی پیدا کرنا مناسب نہیں ہے۔ اگر کسی سماج کی کوئی روایت ہے تو اسے اپنی روایت کو برقرار رکھنے کا حق ہے، تاہم دیگر سماجوں کو بھی اس روایت کا احترام کرنا چاہیے۔ اسی طرح جس سماج کی روایت ہو، اسے بھی دوسرے سماجوں کے جذبات اور روایات کا احترام ملحوظ رکھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ثقافت کی اصل روح ایک دوسرے کا احترام کرنے میں ہے۔ ہر معاملے کو بلاوجہ تنازع کی شکل دینا اور اس میں سیاست شامل کرنا کسی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا اور نہ ہی اس طرح کبھی ووٹ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ فڑنویس نے مزید کہا کہ بعض لوگ محض خبروں اور عوامی توجہ میں رہنے کے لیے مختلف بیانات اور اقدامات کرتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہر معاملے پر ردعمل دیں یا ہر بیان کا جواب دیں۔ممبئی میں جین برادری کی سفید پٹی کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے تناظر میں وزیر اعلیٰ نے یہ ردعمل ظاہر کیا۔ اس معاملے پر مہاراشٹر نو نرمان سینا (منسے) اور شیوسینا (ٹھاکرے گروپ) نے بھی جارحانہ موقف اختیار کیا ہے۔ شتہ روز دادر میں منسے کے رہنما سندیپ دیشپانڈے نے سخت احتجاج کرتے ہوئے ممبئی میونسپل کارپوریشن کو سڑک پر بنائی گئی سفید پٹی مٹانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اسی تنازع پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اپنا موقف پیش کیا ہے۔گھاٹکوپر اور دادر کے بعد سفید پٹی کا تنازع ممبئی کے دیگر علاقوں تک بھی پھیلتا جا رہا ہے۔ دادر میں سفید پٹی کے خلاف احتجاج کے بعد اب گرگاؤں میں بھی سفید پٹی پر سیاہ رنگ پھیر دیا گیا۔ گرگاؤں میں منسے کے مقامی صدر دنیش پُنڈے نے بھی احتجاجی موقف اختیار کیا۔ اس دوران منسے اور ہم گرگاؤں کر تنظیم کے کارکنان کو احتجاج کے دوران گاؤ دیوی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ معاملے پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف حلقوں کی نظریں آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے