گوالیار کے تگھرا ڈیم میں ایم بی بی ایس کے دو طلبہ گہرے پانی میں ڈوبے، ایک کی لاش ملی، دوسرے کی تلاش جاری
گوالیار، 14 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے گوالیار گجراراجا میڈیکل کالج کے دو میڈیکل طلبہ ہفتے کی شام تگھرا ڈیم میں ڈوب گئے۔ دیر رات تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن میں ایک طالب علم کی لاش برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ دوسرے طالب علم کی تلاش جاری ہے۔ یہ ح
ڈیم میں اتوار کی صبح سے آیوش شریواستو کی تلاش جاری ہے


رات بھر چلا ریسکیو آپریشن


گوالیار، 14 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے گوالیار گجراراجا میڈیکل کالج کے دو میڈیکل طلبہ ہفتے کی شام تگھرا ڈیم میں ڈوب گئے۔ دیر رات تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن میں ایک طالب علم کی لاش برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ دوسرے طالب علم کی تلاش جاری ہے۔

یہ حادثہ ہفتے کی شام تقریباً 7 بجے تگھرا ڈیم کے کچی پار علاقے میں پیش آیا، جہاں عام لوگوں کی آمد و رفت ممنوع ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دونوں طلبہ ڈیم کے کنارے پانی میں اترے تھے۔ اسی دوران ان کا توازن بگڑ گیا اور وہ 40 سے 50 فٹ گہرے پانی میں ڈوب گئے۔ معلومات کے مطابق، میڈیکل کالج کے آٹھ طلبہ و طالبات کا گروپ تگھرا ڈیم گھومنے اور پکنک منانے پہنچا تھا۔ گروپ میں چار طالبات اور چار طلبہ شامل تھے۔ تمام لوگ بوٹ کلب سے تقریباً تین کلومیٹر دور کچی پار علاقے میں گئے تھے۔ اسی دوران سیکنڈ ایئر کے طالب علم آیوش شریواستو، ساکن مظفر پور (بہار) اور گوپال اگروال، ساکن بینا (ساگر) پانی کے قریب چلے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق دونوں کا پاوں پھسل گیا، جس سے وہ توازن کھو بیٹھے اور دیکھتے ہی دیکھتے گہرے پانی میں سما گئے۔

کافی دیر تک دونوں کے واپس نہیں لوٹنے پر ساتھیوں نے ان کی تلاش شروع کی۔ تلاشی کے دوران ڈیم کے پتھریلے کنارے پر دونوں طلبہ کے جوتے اور کپڑے سلیقے سے رکھے ہوئے ملے۔ یہ دیکھ کر ساتھی طلبہ کے ہوش اڑ گئے اور انہوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی تگھرا تھانہ پولیس، سی ایس پی کرشن پال سنگھ اور تھانہ انچارج شیورام سنگھ کنشانہ پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ ایس ڈی آر ایف اور مقامی غوطہ خوروں کی ٹیم کو فوری طور پر ریسکیو آپریشن میں لگا دیا گیا۔

ڈیم کی انتہائی گہرائی، کیچڑ اور چٹانی ساخت کی وجہ سے راحت اور بچاو کے کام میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دیر رات تک بوٹ اور ہائی پاور سرچ لائٹ کی مدد سے سرچنگ جاری رہی۔ ریسکیو ٹیم نے دیر رات گوپال اگروال کی لاش برآمد کر لی، جبکہ آیوش شریواستو کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ اتوار کے روز بھی ایس ڈی آر ایف اور غوطہ خوروں کی ٹیم تلاش کی مہم میں مصروف رہی۔

سی ایس پی کرشن پال سنگھ نے بتایا کہ واقعے کی معلومات ملتے ہی پولیس اور ایس ڈی آر ایف کی مشترکہ ٹیم موقع پر پہنچ گئی تھی۔ دونوں طلبہ کے اہلِ خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ انتظامیہ کی نگرانی میں سرچ آپریشن لگاتار جاری ہے۔ اس دلدوز حادثے نے میڈیکل کالج کے احاطے میں سوگ کی لہر دوڑا دی ہے۔ ساتھ پڑھنے والے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کے درمیان گہرے دکھ اور تشویش کا ماحول ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande