تلنگانہ ہائیکورٹ کے دو علیحدہ مقدمات میں متضاد فیصلے
حیدرآباد، 14 جون (ہ س)۔ وہاٹس ایپ اورسوشل میڈیا پرپوسٹ کئے جانے والامواد کب جرم بن جائے کوئی کہہ نہیں سکتا کیونکہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ پرپوسٹ کئے گئے مواد کے سلسلہ میں دوعلحدہ مقدمات میں دومتضاد فیصلوں کے ذریعہ جو صورتح
تلنگانہ ہائیکورٹ کے دو علحدہ مقدمات میں متضاد فیصلے


حیدرآباد، 14 جون (ہ س)۔

وہاٹس ایپ اورسوشل میڈیا پرپوسٹ کئے جانے والامواد کب جرم بن جائے کوئی کہہ نہیں سکتا کیونکہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا بالخصوص واٹس ایپ پرپوسٹ کئے گئے مواد کے سلسلہ میں دوعلحدہ مقدمات میں دومتضاد فیصلوں کے ذریعہ جو صورتحال پیدا کی ہے اس کے نتیجہ میں یہ کہنا مشکل ہوگیا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے بی آرایس قائد کے خلاف پوسٹ کئے گئے مواد پرکاروائی کے سلسلہ میں جاری کئے گئے احکامات میں کہا کہ جب تضحیک‘ تذلیل اوربدنامی کا باعث بننے والامواد موجود ہے توایسی صورت میں کاروائی قانونی فوجداری کاروائی کی گنجائش موجود ہے۔ جسٹس تروملا دیوی ایڈا نے اس مقدمہ کی سماعت کے دوران کہا کہ جب مواد سے متعلق ثبوت و شواہد موجود ہیں توابتدائی تحقیقات کے دوران مقدمہ کو خارج نہیں کیا جاسکتا بلکہ تحقیقات کرتے ہوئے حقائق سےآگہی حاصل کرنے کے بعد ہی کاروائی ممکن ہوسکتی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ درخواست گذارنے بی آرایس قائد کے خلاف پوسٹ کئے گئے مواد میں ملزم بناتے ہوئے درج کئے گئے مقدمہ کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے مذکورہ مقدمہ کوخارج کرنے کی اپیل کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ جسٹس ایڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم واٹس ایپ پرپوسٹ کئے گئے قابل اعتراض مواد پرکی جانے والی کاروائی پرفوری روک لگانے سے انکارکردیا جبکہ دویوم قبل تلنگانہ ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پرپوسٹ کئے جانے والے مواد کے سلسلہ میں مقدمہ درج کئے جانے کے معاملہ میں رہنمایانہ خطوط کی تیاری اوراس کے بعدہی مقدمہ درج کرنے کی ہدایا ت جاری کی تھی اورمقد مہ میں کسی بھی طرح کی پیشرفت سے انکارکرتے ہوئے کہاتھا کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کئے جانے والے مواد کواظہارخیال کی آزادی پر محمول کرتے ہوئے اس پرکسی بھی طرح کی کاروائی نہ کرنے کی حمایت کی تھی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے دومتضاد فیصلوں کے بعد اب اس صورتحال سے نمٹنے کے سلسلہ میں قانونی ماہرین کی بھی متضادرائے پائی جانے لگی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande