بے موسم بارش سے متاثرہ کسانوں کے لیے 14 کروڑ 58 لاکھ روپے کی امداد منظور
امدادی رقم براہِ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں ہوگی منتقلبلڈھانہ، 14 جون (ہ س)۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں اپریل 2026 کے دوران ہونے والی بے موسم بارش سے فصلوں کو پہنچنے والے بڑے نقصان کے بعد ریاستی حکومت نے متاثرہ کسانوں کی امداد کے لیے مجموعی ط
AGRICULTURE MAHA RELIEF FUND


امدادی رقم براہِ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں ہوگی منتقلبلڈھانہ، 14 جون (ہ س)۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں اپریل 2026 کے دوران ہونے والی بے موسم بارش سے فصلوں کو پہنچنے والے بڑے نقصان کے بعد ریاستی حکومت نے متاثرہ کسانوں کی امداد کے لیے مجموعی طور پر 14 کروڑ 58 لاکھ 90 ہزار روپے کے فنڈ کی منظوری دی ہے۔ امداد و بازآبادکاری کے وزیر مکرند جادھو پاٹل نے بتایا کہ امدادی رقم شفاف اور تیز رفتار طریقے سے تقسیم کی جائے گی اور مستحق کسانوں کے بینک کھاتوں میں براہِ راست منتقل کی جائے گی۔حالیہ سرکاری حکم نامے کے مطابق بلڈھانہ ضلع میں اپریل 2026 کی بے موسم بارش سے متاثر ہونے والے 2 ہزار 220 کسانوں اور ایک ہزار 335 ہیکٹر متاثرہ زرعی رقبے کے لیے 2 کروڑ 27 لاکھ 32 ہزار روپے کی امداد منظور کی گئی ہے۔ وزیر مکرند جادھو پاٹل نے بتایا کہ تمام اہل کسانوں کو مقررہ شرح کے مطابق امدادی رقم ڈی بی ٹی کے ذریعے براہِ راست ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ افسران کو تمام مستحقین کی معلومات کمپیوٹرائزڈ نظام میں درست انداز میں درج کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ زرعی سیزن میں فصلوں کے نقصان کے لیے پہلے سے دی گئی امداد کو نئے مطالبے میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ ایک ہی سیزن میں صرف ایک مرتبہ امداد دی جائے گی اور کسی بھی مستحق کو دوہری امداد نہ ملے، اس کی ذمہ داری متعلقہ تحصیلدار اور ضلع کلکٹر دفاتر پر عائد کی گئی ہے۔ حکومتی فیصلے میں بینکوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ قدرتی آفات کے متاثرہ کسانوں کو ملنے والی امدادی رقم کسی پرانے قرض یا دیگر واجبات کی وصولی کے لیے استعمال نہ کی جائے۔ ضلع کلکٹروں کو تمام بینکوں کو فوری طور پر ضروری ہدایات جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔امدادی عمل مکمل ہونے کے بعد تمام مستحق کسانوں کی فہرست اور انہیں دی گئی امداد کی تفصیلات متعلقہ اضلاع کی سرکاری ویب سائٹس پر جاری کی جائیں گی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق پونے، اورنگ آباد اور امراوتی ڈویژن کے مجموعی طور پر 16 ہزار 267 متاثرہ کسانوں کو اس امدادی فنڈ سے فائدہ پہنچے گا۔ مجموعی طور پر 8 ہزار 98.95 ہیکٹر متاثرہ زرعی رقبے کے لیے 14 کروڑ 58 لاکھ 90 ہزار روپے کی امداد منظور کی گئی ہے۔پونے ڈویژن میں ضلع شولاپور کے ایک ہزار 270 کسانوں (856.05 ہیکٹر) کے لیے ایک کروڑ 67 لاکھ 89 ہزار روپے، ضلع پونے کے 8 ہزار 544 کسانوں (3,490.01 ہیکٹر) کے لیے 6 کروڑ 23 لاکھ 87 ہزار روپے اور ضلع ستارا کے 28 کسانوں (5.14 ہیکٹر) کے لیے 98 ہزار روپے منظور کیے گئے ہیں۔ اس طرح پونے ڈویژن کے 9 ہزار 842 کسانوں کے لیے مجموعی طور پر 7 کروڑ 92 لاکھ 74 ہزار روپے کی امداد منظور ہوئی ہے۔اورنگ آباد ڈویژن میں عثمان آباد ضلع کے 2 ہزار 204 کسانوں (1,510.32 ہیکٹر) کے لیے 2 کروڑ 84 لاکھ 15 ہزار روپے، ناندےڑ کے 144 کسانوں (64.50 ہیکٹر) کے لیے 9 لاکھ 59 ہزار روپے اور ہنگولی کے 29 کسانوں (15.20 ہیکٹر) کے لیے 2 لاکھ 73 ہزار روپے منظور کیے گئے ہیں۔ اس ڈویژن کے 2 ہزار 377 کسانوں کے لیے مجموعی امداد 2 کروڑ 96 لاکھ 47 ہزار روپے ہے۔امراوتی ڈویژن میں بلڈھانہ کے 2 ہزار 220 کسانوں (1,335 ہیکٹر) کے لیے 2 کروڑ 27 لاکھ 32 ہزار روپے، واشم کے 836 کسانوں (291.61 ہیکٹر) کے لیے 49 لاکھ 85 ہزار روپے، ایوت محل کے 444 کسانوں (242.11 ہیکٹر) کے لیے 41 لاکھ 60 ہزار روپے، اکولہ کے 308 کسانوں (204.85 ہیکٹر) کے لیے 34 لاکھ 89 ہزار روپے اور امراوتی کے 240 کسانوں (84.96 ہیکٹر) کے لیے 16 لاکھ 3 ہزار روپے کی امداد منظور کی گئی ہے۔ اس طرح امراوتی ڈویژن کے 4 ہزار 48 کسانوں کے لیے مجموعی طور پر 3 کروڑ 69 لاکھ 69 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر مکرند جادھو پاٹل نے کہا کہ اس فیصلے سے امداد کے منتظر ہزاروں کسانوں کو بڑی راحت ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے فوری پنچنامے مکمل کرکے مالی امداد کی منظوری دی ہے، جس پر قدرتی آفت سے متاثرہ کسانوں نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande