
جموں, 04 مئی (ہ س)لداخ کو براہ راست وادی کشمیر کے ساتھ جوڑنے والا زوجیلا ٹنل منصوبہ تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے اور مکمل بریک تھرو کے لیے اب صرف 210 میٹر کھدائی باقی رہ گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ 13.15 کلومیٹر طویل یہ ٹنل، جس پر تقریباً 4,500 کروڑ روپے لاگت آ رہی ہے، ایشیا کی سب سے طویل دو طرفہ سڑک ٹنل بننے جا رہی ہے۔ منصوبے کی تکمیل جون کے پہلے ہفتے تک متوقع بتائی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ٹنل کی تعمیر کا مقصد زوجیلا درے پر موسم کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو ختم کرنا اور لداخ کو سال بھر کشمیر وادی سے جوڑنا ہے۔ اس وقت برفباری، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودوں کے باعث کرگل اور دراس جیسے علاقے سال کے کئی مہینے منقطع رہتے ہیں۔
پروجیکٹ حکام نے بتایا کہ لداخ کی جانب سے 6.3 کلومیٹر ہیڈنگ کھدائی، 4.4 کلومیٹر بینچنگ اور 2.8 کلومیٹر فائنل لائننگ مکمل ہو چکی ہے، جبکہ کام دونوں اطراف سے مسلسل جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی حصہ شدید موسمی حالات اور پیچیدہ جغرافیائی ساخت کے باعث زیادہ چیلنجنگ ہے، جہاں پانی کے اخراج، بجلی کی فراہمی اور وینٹی لیشن جیسے مسائل درپیش ہیں۔ سردیوں میں درجہ حرارت منفی 35 سے منفی 45 ڈگری سیلسیس تک گر جاتا ہے، جس سے تعمیراتی عمل مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
منصوبے پر اس وقت 1,400 سے زائد افراد کام کر رہے ہیں اور 400 سے زیادہ مشینیں استعمال کی جا رہی ہیں۔ تین میں سے دو وینٹی لیشن شافٹس مکمل ہو چکے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ جنوری 2023 میں برفانی تودے کے باعث دو مزدور ہلاک ہوئے تھے اور کام کچھ عرصے کے لیے معطل رہا، تاہم بعد ازاں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تعمیراتی سرگرمیاں بحال کر دی گئیں۔
حکام کے مطابق ٹنل کی تکمیل سے لداخ کی موسمی تنہائی ختم ہوگی، سیاحت کو فروغ ملے گا اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل سمیت طبی و ہنگامی خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔ اس منصوبے کو دفاعی اعتبار سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر