
سپریم کورٹ نے ضمانت حاصل کرنے کے لیے دلتوں اور قبائلیوں کے لیے تھانے کی صفائی کی شرط کو منسوخ کر دیا
نئی دہلی، 4 مئی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے اڈیشہ میں پیش آئے ایک حالیہ معاملہ کا ازخود نوٹس لیا ہے جہاں ہائی کورٹ اور نچلی عدالتوں نے دلت اور قبائلی لوگوں کو اس شرط پر ضمانت دی کہ انہیں پولیس تھانہ کی دو مہینے تک صفائی کرنی پڑے گی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی قیادت والی بنچ نے اس معاملے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔
سپریم کورٹ نے ان شرائط کو توہین آمیز اور انسانی وقار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کو منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا، ان حالات پرہمیں شدید مایوسی اور افسوس ہے اور یہ انسانی وقار کے لیے توہین آمیز ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ان حالات سے یہ تاثر مل سکتا ہے کہ عدلیہ ذات کی بنیاد پر کام کر رہی ہے، ان کا مقصد خاص طور پر سماج کے پسماندہ طبقات سے ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ہمیں 2026 میں عدلیہ سے ایسی چیزوں کی توقع نہیں ہے۔ اس نے ملک بھر کی عدالتوں کو خبردار کیا کہ وہ مستقبل میں ایسی شرائط عائد نہ کریں۔ ان میں سے زیادہ تر معاملات کان کنی مخالف مظاہرین کےتھے۔
-------------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی