
نئی دہلی، 4 مئی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے انتخابات کے بعد بھی مغربی بنگال میں مرکزی فورسز کی تعیناتی کو جاری رکھنے کی درخواست پر جلد سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی قیادت والی بنچ نے کہا کہ ریاست میں امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے، عدالت کی نہیں۔ بنچ نے کہا، ”ہمیں امید ہے کہ ریاستی حکومتی مشینری اپنی ذمہ داری کو سمجھے گی اور عدالت کی مداخلت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔“
یہ عرضی سناتنی سنسد سنستھا نے دائر کی تھی۔ عرضی گزار کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل وی گری نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا اور مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد تشدد کے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت مرکزی فورسز کی مسلسل تعیناتی اور صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں ایک مانیٹرنگ کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت کرے۔ عدالت نے پھر پوچھا، اس معاملے میں جلد سماعت کی کیا ضرورت ہے؟ انتخابات پہلے ہی ہو چکے ہیں، اور ووٹوں کی گنتی آج ہو رہی ہے، حکومت اپنا اگلا لائحہ عمل طے کرے گی۔ اگر کوئی نکات اٹھانے کی ضرورت ہے، تو وہ کلکتہ ہائی کورٹ میں کر سکتے ہیں۔ ہم اس معاملے کی سماعت 11 مئی کو کریں گے، جس تاریخ کو اس معاملے کی اصل درخواست سماعت کے لیے درج ہے۔
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرنے والے وکیل ڈی ایس نائیڈو نے کہا کہ کمیشن کی ذمہ داری آج ختم ہو رہی ہے۔ درخواست گزار نے پھر دلیل دی کہ نتائج کے بعد کمیشن کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے جس سے سکیورٹی کا مسئلہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ریاستی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھنے والے حالات کو سنبھالے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی