مسلم ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ ہوا - شبھیندو ادھیکاری
کولکاتا، 04 مئی (ہ س)۔ 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے دوران بی جے پی لیڈر شبھیندو ادھیکاری نے کہا کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی بی جے پی کو توقع سے بہتر نتائج مل رہے ہیں۔ پیر کو ووٹوں کی گنتی
ووٹ


کولکاتا، 04 مئی (ہ س)۔ 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے دوران بی جے پی لیڈر شبھیندو ادھیکاری نے کہا کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی بی جے پی کو توقع سے بہتر نتائج مل رہے ہیں۔

پیر کو ووٹوں کی گنتی کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے شبھیندو ادھیکاری نے کہا کہ ابتدائی رجحانات سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی ریاست میں واضح اکثریت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نندی گرام سیٹ پر جیت کی طرف بڑھ رہے ہیں، جبکہ بھوانی پور سیٹ پر انہیں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ قریبی مقابلہ کا سامنا ہے۔

ابتدائی رجحانات کے مطابق بی جے پی کو مسلم اکثریتی اضلاع جیسے مالدہ، مرشدآباد اور شمالی دیناج پور میں بھی زبردست حمایت حاصل ہے۔ بی جے پی مالدہ کی 12 میں سے چھ سیٹوں پر، مرشد آباد کی 22 میں سے آٹھ اور شمالی دیناج پور کی نو میں سے چار سیٹوں پر آگے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس الیکشن میں ہندو ووٹرز کی بڑی تعدادنے متحد ہو کر ووٹ دیا ہے، جب کہ مسلم ووٹ مختلف جماعتوں میں تقسیم ہوئی ہیں۔ کئی جگہوں پر مسلم ووٹروں نے دوسری پارٹیوں کی حمایت کی، جب کہ کچھ علاقوں میں بی جے پی کو بھی مسلم ووٹ ملے۔

ہمایوں کبیر، جنہوں نے انتخابات سے قبل ترنمول کانگریس چھوڑ کر نئی پارٹی بنائی ہے، ریجی نگر اور نوادا سیٹوں پر آگے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ ان کی وجہ سے مسلم ووٹ بینک مزید تقسیم ہو گیا ہے۔ مزید برآں، کچھ مسلم ووٹ بائیں بازو کی پارٹیوں اور کانگریس کو بھی گئے ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande