نسراپور سانحہ: قتل و زیادتی کیس میں تفتیش کا دائرہ وسیع، ملزم کی پانچ روزہ تحویل، پولیس ہر زاویے سے تحقیقات میں مصروف،
پونے ، 4 مئی (ہ س) پونے ضلع کے نسراپور علاقے میں پیش آئے کمسن بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے سنگین معاملے میں پولیس نے عدالت کے سامنے تفتیش کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کے خلاف سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر جامع جانچ کی جائے گی۔ اس
Crime-Nasrapur-Case


پونے ، 4 مئی (ہ س) پونے ضلع کے نسراپور علاقے میں پیش آئے کمسن بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے سنگین معاملے میں پولیس نے عدالت کے سامنے تفتیش کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کے خلاف سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر جامع جانچ کی جائے گی۔ اس عمل میں طبی معائنہ، کیمیائی تجزیہ اور دیگر ضروری تحقیقات شامل ہوں گی تاکہ جرم کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا جا سکے۔

پولیس کے مطابق یہ بھی جانچ کیا جا رہا ہے کہ ملزم کا مقتولہ بچی سے اس سے پہلے کوئی رابطہ رہا تھا یا نہیں، اور آیا اسے کسی اور مقام پر لے جا کر جرم انجام دیا گیا یا اس نوعیت کے دیگر واقعات سے اس کا کوئی تعلق رہا ہے۔

اس کیس میں 65 سالہ ملزم بھیم راو کامبلے کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں قتل، جنسی زیادتی، بدنیتی سے حملہ اور اغوا سے متعلق دفعات شامل ہیں، جبکہ بچوں کے تحفظ کے قانون کے تحت بھی کارروائی کی گئی ہے۔ یہ مقدمہ بچی کی والدہ کی شکایت پر پونے دیہی پولیس میں درج کیا گیا۔

واقعہ یکم مئی 2026*کو دوپہر تقریباً 3 بجے سے رات 8 بجے کے درمیان راجگڑھ پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع نسراپور گاؤں کے قریب پیش آیا تھا، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔

گرفتاری کے بعد ملزم کو سخت سیکورٹی کے درمیان عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی مکمل جانچ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کیے جائیں گے جنہوں نے ملزم کو بچی کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا تھا۔

تفتیشی افسر وجے مالا پوار اور سرکاری وکیل اروندھتی برہمے نے عدالت کو بتایا کہ قتل کے لیے استعمال ہونے والے ممکنہ ہتھیار کی تلاش جاری ہے اور دیگر شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ پہلو بھی زیرِ غور ہے کہ آیا اس جرم میں کسی اور فرد کا کوئی کردار تو نہیں رہا۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد ملزم کو پانچ دن کے لیے پولیس تحویل میں دینے کا حکم صادر کیا۔

دوسری جانب مقامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ملزم کا ماضی بھی متنازع رہا ہے۔ گاؤں والوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اس کے غیر اخلاقی رویوں کے باعث تقریباً دو دہائی قبل گاؤں سے نکال دیا گیا تھا۔

مقامی افراد کے مطابق ملزم خواتین کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کرتا تھا اور کھیتوں میں کام کرنے والی عورتوں پر بری نظر رکھتا تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کی بیوی اور بیٹا بھی اس سے علیحدہ رہتے تھے۔

یہ واقعہ علاقے میں شدید اشتعال اور غم کا سبب بنا ہوا ہے، جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی ہر ممکن زاویے سے باریک بینی کے ساتھ تفتیش جاری رکھی جائے گی تاکہ متاثرہ کو انصاف دلایا جا سکے۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande