
کولکاتا، 3 مئی (ہ س)۔ الیکشن کمیشن نے پیر کو ہونے والے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی کے سلسلے میں سرکاری ملازمین کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ کمیشن نے واضح طور پر کہا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے عمل کے دوران کسی قسم کی لاپرواہی یا قواعد کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کوئی بھی ملازم قصوروار یا غفلت کا مرتکب پایا گیا تو اسے سخت محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، بشمول اسے ملازمت سے محروم ہوناپڑسکتا ہے۔
کمیشن ذرائع کے مطابق اس بار انتخابی عمل پر شروع سے ہی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ووٹوں کی گنتی کے دن کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ حال ہی میں جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے فالتا اسمبلی حلقہ میں پریذائیڈنگ اور پولنگ افسران کی لاپرواہی کی اطلاع ملی تھی، جس کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔
ریاست میں اس بار دو مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی اور ریکارڈ ٹرن آو¿ٹ کی اطلاع ملی ہے۔ ووٹوں کی گنتی پیر 4 مئی کو ہوگی۔ فی الحال، تمام الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) سخت حفاظتی انتظامات میں اسٹرانگ رومز میں محفوظ ہیں۔ گنتی سخت حفاظتی انتظامات میں کی جائے گی۔
سرکاری ملازمین ووٹوں کی گنتی کے عمل کو سنبھالیں گے اور انہیں الیکشن کمیشن کے تمام رہنما خطوط پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ووٹوں کی گنتی میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ریاست بھر میں 77 گنتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ووٹوں کی پرامن گنتی کو یقینی بنانے کے لیے 165 گنتی مبصرین کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اضافی مبصر اور 77 پولیس مبصر بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
سکیورٹی کے لیے گنتی کے مراکز کو قلعہ نما میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 163 کو بہت سے مقامات پر لاگو کیا گیا ہے، اور اسٹرانگ روم کے 200 میٹر کے اندر پانچ یا اس سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ قدم ووٹوں کی گنتی سے قبل کسی بھی کشیدگی یا ناپسندیدہ واقعات کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی