
واشنگٹن، 27 مئی (ہ س)۔ امریکہ کی ایک کاغذ (پیپر) اور پد (پلمپ) مل میں کیمیکل ٹینک پھٹنے سے کئی لوگوں کی جان چلی گئی۔ افسران نے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد اب تک واضح نہیں ہو سکی ہے۔ مل کے احاطے میں تقریباً 10 لوگ سنگین حالت میں ملے ہیں۔ یہ لوگ کیمیکل کی زد میں آنے سے جھلس گئے۔ مل انتظامیہ نے کہا ہے کہ کئی ملازمین لاپتہ ہیں۔ سرکاری افسران اور انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ منگل کی صبح ہوئے اس حادثے میں کئی لوگوں کی موت ہو گئی۔
اے بی سی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، یہ مل (نپون ڈائنا ویو پیکیجنگ کمپنی) امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں نہیں، بلکہ ملک کی شمال مغربی ریاست واشنگٹن کے لانگ ویو میں واقع ہے۔ افسران نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے سے آس پاس کے شہریوں کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ فائر بریگیڈ افسران نے بتایا کہ انہیں اس واقعے کی اطلاع منگل کی صبح قریب 7.15 بجے ملی۔ بتایا گیا کہ مل میں ’وائٹ لکر‘ سے بھرا ایک ٹینک پھٹ گیا ہے۔
لانگ ویو فائر بٹالین چیف مائیک گورسچ نے پریس کانفرنس میں کہا، ’’اب حالات مستحکم ہیں۔ ابھی بچاو کام چل رہا ہے۔‘‘ گورسچ کے ساتھ موجود کاولٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے چیف اسکاٹ گولڈ اسٹین نے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد کا اندازہ لگا پانا ابھی مشکل ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ کتنے لوگ لاپتہ ہیں۔ گورسچ کے مطابق، راحت اور بچاو کام کے دوران پھسلنے سے ایک فائر فائٹر زخمی ہو گیا۔
اوریگون میں پورٹ لینڈ فائر اینڈ ریسکیو کے ترجمان رک گریوز نے بتایا کہ جن لوگوں کی حالت تشویشناک ہے، ان کا علاج آس پاس کے طبی مراکز میں کیا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کو برن سینٹر میں بھی داخل کرایا گیا ہے۔ نپون ڈائنا ویو پیکیجنگ کمپنی کا یہ یونٹ کولمبیا ندی کے کنارے واقع ہے۔ یہاں کمپنی کی پلمپ اور پیپر مل کے ساتھ ساتھ لیکویڈ پیکیجنگ پلانٹ بھی ہے۔ یہاں ٹشو پیپر، پرنٹنگ پیپر، کپ، پلیٹ، کارٹن اور دیگر سامان بنانے کے لیے خام مال تیار کیا جاتا ہے۔ ریاست کے محکمہ ماحولیات کے مطابق، اس مل میں تقریباً 1000 لوگ کام کرتے ہیں۔
گولڈ اسٹین نے بتایا کہ جو 80000 گیلن (303000 لیٹر) صلاحیت والا ٹینک پھٹا ہے، وہ تقریباً 60 فیصد بھرا ہوا تھا۔ یہ کیمیکل بنیادی طور پر سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ سے مل کر بنتا ہے۔ اس کا استعمال لکڑی کو گلا کر کرافٹ پیپر بنانے میں کیا جاتا ہے۔ گولڈ اسٹین نے کہا کہ دھماکے کی وجہ کا پتہ لگانا ابھی جلد بازی ہوگی۔ گورسچ نے بتایا کہ قریب 40 فائر فائٹرز اور پیرا میڈیکس، ایک علاقائی ہیزمیٹ ٹیم کے ساتھ بچاو کام چلایا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن