
تہران،27مئی (ہ س)۔
ایرانی حکومت نے بندر عباس کے علاقے پر امریکی حملے کے بعد امریکی طرزِ عمل پر تنقید کی ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی معاہدے کی کوششوں کے تحت مذاکرات بھی جاری ہیں۔ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے آج منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا:یہ پہلی بار نہیں کہ ہم امریکی بیانات اور رویّوں میں تضاد دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران ایک مسئلہ امریکی بیانات اور عملی اقدامات میں تضاد بھی ہے۔ہم قالیباف پر اعتماد کرتے ہیں:انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم انتہائی اعلیٰ سطح کی ہے، جبکہ دفاعی اور معاون صلاحیتیں بھی مضبوط ہیں۔انہوں نے مذاکراتی سفارتی ٹیم خصوصاً چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف پر اعتماد کا اظہار کیا، جو کئی برس جنگی قیادت سے وابستہ رہے اور سفارت کاری سے بھی واقف ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا عمل ایرانی عوام کے مفاد اور خطے میں پائیدار امن کے حق میں ختم ہوگا اور خطہ عدم استحکام کی موجودہ صورتحال سے نجات پائے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکی فوج نے گزشتہ دو دن کے دوران جنوبی علاقوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے امریکی فوجی سرگرمیوں کا مقابلہ کیا، جس کے بعد واشنگٹن نے جنوبی ایران میں اہداف پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی پر خبردار کرتے ہوئے ایران کے حقِ دفاع پر زور دیا۔اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی آر کیو-4 ڈرون اور ایف-35 طیارے پر فائرنگ کی، جبکہ ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کی نگرانی بھی کی گئی۔امریکی فوج نے پیر کے روز کہا تھا کہ اس نے جنوبی ایران میں میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب ان کشتیوں پر بھی حملے کیے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ آبی گزرگاہ میں بارودی سرنگیں بچھا رہی تھیں۔
دوسری جانب مذاکرات کے قریب ایک ایرانی ذریعے نے بتایا کہ قالیباف کا دوحہ کا دورہ مثبت رہا ہے۔اس نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی امریکہ کے ساتھ آخری بڑا اختلافی نکتہ ہے، جس کے حل کے لیے قطری ثالثی جاری ہے۔ذرائع کے مطابق تہران اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے اعلان کے آغاز پر کم از کم نصف منجمد رقوم جاری کی جائیں۔اس ذرائع نے کہا کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کیے جانے چاہییں۔
قالیباف دوحہ میں موجود:ایرانی حکام نے بتایا کہ قالیباف مذاکرات مکمل کرنے کے لیے دوسرے روز بھی دوحہ میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایران پر حالیہ حملوں کے باوجود امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا کہ حالیہ حملوں کے باوجود مذاکرات جاری ہیں اور بعض مسائل پر اتفاقِ رائے کے لیے بات چیت مزید چند روز جاری رہ سکتی ہے۔گزشتہ روز ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر اتفاق قریب ہے، جبکہ بعض باقی معاملات خصوصاً ایران میں موجود زیادہ افزودہ یورینیم کی مقدار اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں پر بات چیت جاری رہے گی۔
اسی دوران پاکستان اور قطر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کم کرنے اور رکاوٹیں دور کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی اس جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے، جس کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan