ایران کے ساتھ کوئی نقصان دہ معاہدہ نہیں کروں گا: امریکی صدرٹرمپ
واشنگٹن،25مئی (ہ س)۔امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کے دوران غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے اور اب ایسی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں جن سے لگتا ہے کہ تنازع کے فریقین ایک ابتدائی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم اسی دوران امریکی صدر ڈونل
ایران کے ساتھ کوئی نقصان دہ معاہدہ نہیں کروں گا: امریکی صدرٹرمپ


واشنگٹن،25مئی (ہ س)۔امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل کے دوران غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے اور اب ایسی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں جن سے لگتا ہے کہ تنازع کے فریقین ایک ابتدائی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کوئی نقصان دہ معاہدہ نہیں کریں گے۔انہوں نے اس معاہدے کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا جس پر جلد ہی دستخط ہونے کی توقع کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ٹرمپ نے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ابھی ایران کے ساتھ معاہدے کے بارے میں بات نہیں کر سکتا اور یہ معاملہ صرف مجھ پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے سے متعلق کوئی بھی خبر اچھی ہوگی۔

امریکی صدر نے ” ٹروتھ سوشل“ پر کہا کہ ایران کے ساتھ جس معاہدے پر بات چیت ہو رہی ہے وہ اوباما کے معاہدے سے بالکل مختلف ہے۔ اوباما کے معاہدے کو انہوں نے ایک برا معاہدہ قرار دیا جس نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بالکل قریب لا کھڑا کیا تھا۔ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں چل رہے ہیں اور میں نے اپنے نمائندوں سے کہا ہے کہ وہ معاہدہ کرنے میں جلدی نہ کریں کیونکہ وقت ہمارے حق میں ہے۔

ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ اگر میں نے ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہوگا۔ اوباما کے معاہدے کی طرح نہیں جس نے ایران کو خطیر رقم دی اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے ایک واضح اور کھلا راستہ فراہم کردیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا معاہدہ اس کے بالکل برعکس ہے، لیکن کسی نے اسے دیکھا نہیں اور نہ ہی کوئی اس کے مندرجات کو جانتا ہے۔ اس کے مذاکرات ابھی مکمل نہیں ہوئے۔ اس لیے ان ہارنے والوں کی بات نہ سنیں جو ایسی چیز پر تنقید کر رہے ہیں جس سے وہ واقف ہی نہیں ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران پر محاصرہ پوری طاقت کے ساتھ اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک کہ کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا اور اس پر دستخط نہیں ہو جاتے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات مزید پیشہ ورانہ اور نتیجہ خیز سمت میں بڑھ رہے ہیں لیکن اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے یا حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھ سکے گا۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اتوار کے روز ہی کہا کہ امریکہ نے خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بعد ایران کے معاملے پر پیش رفت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کے حوالے سے اپنے ملک کی مخالفت کا اعادہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تکنیکی مسائل پر بحث کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ان خطوط پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے جو شاید آبنائے ہرمز کے بحران کو حل کر سکے۔ مارکو روبیو نے کہا واشنگٹن ایران کو اس آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ ایک ایسے عمل کا آغاز بھی ثابت ہوگا جو بالآخر ہمیں وہاں پہنچا دے گا جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں۔ یعنی ایک ایسی دنیا جو اب ایران کے جوہری ہتھیار سے خوفزدہ یا فکر مند نہ ہو۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande