
ایم پی میں گیہوں کی خریداری کا نظام کسانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا، سلاٹ بکنگ میں دشواری آ رہی ہے
۔ 100 لاکھ ٹن خریداری کا ہدف، لیکن زمینی حقیقت سے پریشان ہے کسان
بھوپال، 02 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر گیہوں کی خریداری کا کام جاری ہے، لیکن کسانوں کے لیے یہ عمل راحت دینے کے بجائے مصیبت بنتا جا رہا ہے۔ ریاست میں اب تک تقریباً 5 لاکھ کسانوں سے 20 لاکھ ٹن گیہوں خریدا جا چکا ہے۔ ریاستی حکومت نے 100 لاکھ ٹن خریداری کا ہدف رکھا ہے۔ سلاٹ بکنگ کی تاریخ بڑھا کر 23 مئی کر دی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود زمینی سطح پر انتظامات درہم برہم ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے معائنے کے بعد بھی حالات میں متوقع بہتری نظر نہیں آ رہی۔
خریداری کے عمل میں سب سے بڑی پریشانی سلاٹ بکنگ کو لے کر سامنے آ رہی ہے۔ سرور اور انٹرنیٹ کی سست رفتار نے کسانوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ستنا کے موہاری اور کھنڈوا کے مراکز پر کسان 2 سے 3 دنوں سے تلائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ کئی کسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں سلاٹ بک کرنے کے لیے دو دو راتیں جاگنا پڑ رہا ہے، تب جا کر نمبر مل پا رہا ہے۔ حالانکہ وزیر خوراک گووند سنگھ راجپوت نے کہا کہ کسانوں کے مسائل حل کیے جا رہے ہیں۔
خریداری مراکز پر بدعنوانی کے الزامات لگاتار سامنے آ رہے ہیں۔ کٹنی کے ڈوکریا مرکز پر ایک خاتون کسان سے پورٹل انٹری کے نام پر 810 روپے مانگنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ہردا اور دیواس میں کسانوں کا الزام ہے کہ فی ٹرالی 2 سے 5 کلو گیہوں ’سیمپل‘ کے نام پر لیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ جھاڑو اور پلے داری کے نام پر بھی پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔ دیواس میں فی کوئنٹل 1.5 کلو تک کی کٹوتی مٹی اور چوری بتا کر کی جا رہی ہے۔
آگر مالوہ اور دیواس سمیت کئی اضلاع کے خریداری مراکز پر بنیادی سہولیات کی کمی صاف نظر آ رہی ہے۔ انتظامیہ کی ہدایات کے باوجود کسانوں کے لیے نہ تو سائے کا انتظام ہے اور نہ ہی ٹھنڈے پانی کا۔ کسان چلچلاتی دھوپ میں ٹریکٹر ٹرالیوں کے نیچے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ اس کے علاوہ کٹنی کے مرواری مرکز پر چار دنوں سے خریداری بند ہے، کیونکہ وہاں خراب اور پھٹا ہوا باردانہ بھیجا گیا ہے۔ خریداری کے بعد گیہوں کا اٹھاو نہیں ہو پا رہا، جس سے اناج کھلے میں پڑا ہے اور بارش سے خراب ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔
خریداری اور ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے کسان معاشی بحران کا شکار ہیں۔ چھترپور کے کسانوں کا کہنا ہے کہ شادی بیاہ جیسے ضروری کاموں کے لیے انہیں 3 سے 5 فیصد سود پر ساہوکاروں سے قرض لینا پڑ رہا ہے۔ کئی کسان مجبوری میں امدادی قیمت 2625 روپے فی کوئنٹل کے بجائے کھلی منڈی میں 400-300 روپے کم قیمت پر گیہوں فروخت کر رہے ہیں۔ نیمچ، رتلام اور رائسین سمیت کئی اضلاع میں کسانوں کو 6-6 گھنٹے تک دھوپ میں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ رتلام کے ناملی مرکز پر سلاٹ بکنگ کے تین دن بعد نمبر آ رہا ہے۔ کئی کسان ٹرالیاں کھڑی کر کے لوٹ جاتے ہیں، جبکہ کچھ رات بھر وہیں رکتے ہیں۔
کسان لیڈر ڈی پی دھاکڑ نے کہا کہ کئی جگہ کسانوں کو 40 سے 50 کلومیٹر دور مراکز پر سلاٹ مل رہے ہیں، جس سے پریشانی مزید بڑھ رہی ہے۔ کئی مراکز پر 7 سے 8 دن تک کی ویٹنگ چل رہی ہے۔ کسانوں کا الزام ہے کہ وہ اپنی فصل فروخت کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان آج جو تکلیف برداشت کر رہا ہے، آنے والے وقت میں حکومت کو دکھا دے گا کہ تکلیف کیا ہوتی ہے۔
رتلام کے کانڈر واسا سے ناملی مرکز پہنچے کسان اوتار جیسوال کا کہنا ہے کہ دو دن میں آج جا کر گیہوں کی خریداری کا نمبر آیا ہے۔ کئی طرح کے مسائل ہیں۔ بیٹھنے، سائے اور پینے کے پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ تول میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔ اسی طرح اجین کے کسان دھیرج آنجنا نے بتایا کہ وہ تیسری بار گیہوں بیچنے آئے ہیں۔ ایک جیسا گیہوں ہونے کے باوجود کبھی چوری اور مٹی بتا کر ڈیڑھ کلو تک کٹوتی کر دی جاتی ہے۔ اس سے انہیں معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور کسان پریشان ہیں۔
ضلع چھترپور میں بے موسم بارش نے خریداری کے انتظامات کی پول کھول دی۔ گور گائے مرکز پر تقریباً 2 ہزار کوئنٹل گیہوں کھلے میں بھیگ گیا۔ وقت پر اٹھاو نہ ہونے سے اناج خراب ہو رہا ہے اور خریداری روکنی پڑ رہی ہے۔ اس کے علاوہ سرور ڈاون، او ٹی پی کا مسئلہ اور غلط رجسٹریشن جیسی تکنیکی دشواریاں بھی کسانوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔ گوالیار میں کسان کا موبائل نمبر غلط درج ہونے سے اس کا سلاٹ بک نہیں ہو پا رہا ہے۔
کھرگون میں وزیر اعلیٰ کے معائنے کے بعد کچھ بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ تول کے کانٹوں کی تعداد بڑھائی گئی ہے، لیکن اب بھی کئی ٹریکٹر تلائی کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ بڑے کسانوں کی آمد بڑھنے سے دباو برقرار ہے۔
ریاست میں 80 خریداری مراکز بنائے گئے ہیں، لیکن ضلع ستنا کے 18 مراکز پر ابھی تک خریداری شروع نہیں ہو پائی ہے۔ موہاری مرکز پر 500 سے زیادہ ٹریکٹر ٹرالیوں کی لمبی قطاریں لگی ہیں۔ مجموعی طور پر 100 لاکھ ٹن گیہوں کی خریداری کے ہدف کے درمیان زمینی سطح پر بدنظمی، بدعنوانی اور تکنیکی خامیوں نے کسانوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ کسان کو اپنی ہی فصل بیچنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے، جس سے حکومت کے انتظامات پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔
وزیر خوراک گووند سنگھ راجپوت نے بتایا کہ کسانوں کے مفاد میں گیہوں کی خریداری کی مدت 9 مئی سے بڑھا کر 23 مئی 2026 تک کر دی گئی ہے۔ ہر خریداری مرکز پر تول کے کانٹوں کی تعداد 4 سے بڑھا کر 6 کر دی گئی ہے اور کانٹوں کی تعداد میں اضافے کا اختیار اضلاع کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سلاٹ بکنگ میں آ رہی دشواریوں کے پیش نظر این آئی سی سرور کی صلاحیت اور تعداد میں اضافہ کرایا گیا ہے۔ محکمہ خوراک کے ذریعے فی گھنٹہ سلاٹ بکنگ اور خریداری کی مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ خریداری مراکز پر کسانوں کی سہولت کے لیے پینے کا پانی، بیٹھنے کے لیے سایہ دار جگہ اور عوامی سہولیات وغیرہ کے انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ساتھ ہی خریداری مراکز پر دستیاب سہولیات کی تصاویر حکومت ہند کے پی سی ایس اے پی پورٹل پر اپ لوڈ کرنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ کچھ جگہوں پر باردانے کی کمی ہوئی، جس کے حوالے سے کھجوراہو کے بمیٹھا خریداری مرکز کے انچارج اروند اوستھی نے اعتراف کیا کہ کسانوں سے 20 روپے فی کوئنٹل لیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یقین دلایا کہ شام تک باردانہ آنے کی امید ہے، جس کے بعد خریداری پھر سے شروع کی جائے گی۔ وہیں، ضلع کھرگون میں گیہوں کی تلائی میں تاخیر کے بارے میں مرکز کے انچارج ابھیشیک یادو نے بتایا ہے کہ بڑے کسانوں کی زیادہ آمد سے دباو بڑھا ہے، حالانکہ پہلے سے تلائی تیز ہوئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن