
اجمیر، 2 مئی (ہ س)۔ خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ کی اجمیر درگاہ پر سنکٹ موچن مہادیو مندر ہونے کے دعوے سے متعلق عدالت میں ہفتہ کو سماعت کے دوران خادمین نے فریق بنائے جانے کی اپیل دائر کی۔ عدالت نے اگلی سماعت 6 مئی کو مقرر کی۔ خادموں کی تنظیم انجمن کے سکریٹری سرور چشتی نے عدالت کو بتایا کہ وہ مقدمے میں پہلے فریق ہیں ، لہٰذا، انہیں پہلے سنا جائے۔ عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے چشتی نے کہا کہ ملک میں جو چل رہا ہے، اسے سب دیکھ رہے ہیں، کہیں موب لنچنگ ہو رہی ہے، تو عمارتیں منہدم کی جا رہی ہیں، ہر درگاہ اور مساجد میں بھگوان مہادیو نظر آ رہے ہیں۔
سکریٹری سرور چشتی نے بتایا کہ ان کے وکلائ نے عدالت میں دلائل دیے اور سپریم کورٹ کے چار ججوں پر مشتمل بینچ کے فیصلے کی دستاویزات پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ خادم درگاہ کے شروع سے ہی فریق رہے ہیں، جبکہ درگاہ کمیٹی تو 1867 میں وجود میں آئی، اس کا ایک حکومتی کردار ہے۔ درگاہ ایک مذہبی مقام اور ہندوستان کا ایک بڑا اسلامی مرکز ہے۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے انہیں سنا جانا چاہیے۔
قبل ازیں اجمیر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں منصف ویسٹ جج منموہن چندیل کی عدالت میں سماعت کے لیے راشٹریہ ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا اور مہارانا پرتاپ سینا کے قومی صدر راجیہ وردھن پرمار پہنچ گئے۔ یہاں درگاہ کمیٹی کی جانب سے ایڈوکیٹ اشوک سوروپ ماتھر،نمائندگی کرنے والے عہدیدار اور دیگر خادم فریق بھی عدالت میں موجود تھے۔ اس دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔
راشٹریہ ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا نے کہا کہ اس کیس کی سماعت 1/10 پر جاری ہے ، ابھی اس معاملے میں تقریباً 12 درخواستیں فریق ہونے کی سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے وکلائ اس بارے میں اپنا موقف پیش کریں گے کہ فریق ہونے چاہیے یا نہیں۔ ہندو سینا نے اس حوالے سے کافی ثبوت فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے اس کیس کا تصفیہ ہو، اس کے بعد 7/11 پر سماعت ہو اور پھر سروے کا راستہ صاف ہو۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد