
ممبئی ، 02 مئی (ہ س) مہاراشٹر ریاستی ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ نے فروری–مارچ 2026 میں منعقدہ بارہویں جماعت (ہائر سیکنڈری سرٹیفکیٹ) امتحانات کے نتائج آج جاری کر دیے، جس میں مجموعی کامیابی کی شرح 89.79 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے 91.88 فیصد کے مقابلے میں 2.09 فیصد کم ہے، جبکہ حسبِ روایت اس سال بھی لڑکیوں نے لڑکوں سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے 9 علاقائی بورڈز سے کل 14,44,713 باقاعدہ طلبہ نے رجسٹریشن کرایا تھا، جن میں سے 14,33,058 طلبہ امتحان میں شریک ہوئے اور 12,86,843 طلبہ کامیاب قرار پائے۔ نجی امیدواروں میں 36,941 میں سے 29,634 طلبہ (80.21 فیصد) کامیاب ہوئے، جبکہ 50,346 ریپیٹر طلبہ میں سے 18,349 طلبہ (36.44 فیصد) کامیاب رہے۔
صنفی بنیاد پر نتائج میں لڑکیوں کی کامیابی کی شرح 93.15 فیصد رہی، جبکہ لڑکوں کی شرح 86.80 فیصد درج کی گئی۔
ڈویژن وار نتائج میں کونکن 94.14 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ پونے (91.25 فیصد) اور امراوتی (90.92 فیصد) بالترتیب دوسرے اور تیسرے مقام پر رہے۔ اس کے بعد ناسک (90.72 فیصد)، ممبئی (90.08 فیصد)، کولہاپور (89.97 فیصد)، اورنگ آباد (88.68 فیصد) اور ناگپور (88.67 فیصد) کا نمبر رہا، جبکہ لاتور ڈویژن 84.14 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے رہا۔
شعبہ وار نتائج میں سائنس 96.44 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، اس کے بعد کامرس 87.03 فیصد، آرٹس 78.02 فیصد، ووکیشنل کورسز 82.74 فیصد اور آئی ٹی آئی شعبہ 81.78 فیصد رہا۔
معذور طلبہ کی کارکردگی بھی قابلِ ذکر رہی، جہاں 8,367 میں سے 7,579 طلبہ کامیاب ہوئے، جو 90.58 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ 153 مضامین میں سے 26 مضامین کا نتیجہ 100 فیصد رہا۔
اس سال امتحانات کو نقل سے پاک بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے، جن میں امتحانی مراکز کے 500 میٹر کے دائرے میں زیراکس دکانوں کی بندش، سوالیہ پرچوں کی ترسیل کے لیے جی پی ایس نظام کا استعمال اور خفیہ پیکٹ کھولتے وقت ویڈیو ریکارڈنگ شامل تھی۔ مجموعی طور پر 1,983 بے ضابطگیوں کے معاملات درج کیے گئے، جن میں 1,469 اجتماعی نقل کے تھے، جبکہ ریاست بھر میں 15 ایف آئی آر درج ہوئیں اور 100 ملازمین کو معطل کیا گیا۔
طلبہ کے لیے سہولت کے طور پر نمبر کی تصدیق اور جوابی کاپی کی نقل حاصل کرنے کے لیے 3 مئی 2026 سے 17 مئی 2026 تک آن لائن درخواست دی جا سکتی ہے، جس کے لیے فی مضمون 50 روپے اور فوٹو کاپی کے لیے 400 روپے فیس مقرر کی گئی ہے، جبکہ دوبارہ جانچ کے لیے پہلے فوٹو کاپی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ ناکام طلبہ کے لیے جون–جولائی 2026 میں ضمنی امتحانات منعقد کیے جائیں گے۔
اس سال ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے بورڈ نے مارک شیٹ اور سرٹیفکیٹ کو ایک ہی اے-4 سائز کاغذ پر جاری کرنا شروع کیا ہے، جس سے تقریباً 3 کروڑ روپے کی بچت ہوئی ہے۔ نئی مارک شیٹ میں کیو آر کوڈ، طلبہ کی تصویر اور نام کی ترتیب میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے