
نئی دہلی، 2 مئی (ہ س)۔سپریم کورٹ نے ہفتہ کو ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی درخواست کو خارج کر تے ہوئے انتخابی عمل میں کسی بھی آئینی مداخلت سے انکار کر دیا۔عدالت کے اس فیصلے کا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے خیرمقدم کیا ہے اور ٹی ایم سی پر سخت سیاسی حملہ کیا ہے۔
بی جے پی نے کہا کہ ترنمول کانگریس نے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ کا رخ کیا، وہ اس کی’’بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ‘‘کو ظاہر کرتا ہے۔
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سدھانشو ترویدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے مغربی بنگال کے انتخابات آگے بڑھے، ٹی ایم سی کی عوامی حمایت اور حوصلہ مسلسل گرتا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن اور تشدد سے پاک ووٹنگ کے بعد پارٹی کے اندر بے چینی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوا جبکہ ایگزٹ پول کے رجحانات نے صورتحال کو مزید واضح کر دیا ہے ۔
سدھانشو ترویدی نے الزام عائد کیا کہ ٹی ایم سی نے بعد میں بے بنیاد مسائل اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جو ان کی سیاسی مایوسی کی علامت ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ 10 سے 12 برسوں میں، ٹی ایم سی نے عدلیہ کی مختلف سطحوں پر 80 سے زیادہ مرتبہ اپیل کی ہے، لیکن ہر بار اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق، سپریم کورٹ نے آج واضح طور پر اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں آئینی نقطہ نظر سے انتخابی عمل میں مداخلت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ کپل سبل کی طرف سے دائر درخواست کو بھی خارج کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئی- پیک کے دفتر پر چھاپے کے دوران جائے وقوعہ پر وزیر اعلیٰ کی ذاتی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انہیں اپنے ساتھیوں پر مکمل اعتماد نہیں ہے۔
سدھانشو ترویدی نے مزید کہا کہ عدالت نے کپل سبل کی طرف سے دائر درخواست کا بھی نوٹس نہیں لیا، جو بابری مسجد ایکشن کمیٹی سے متعلق معاملات میں فریقین کی نمائندگی کر چکے ہیں اور سیاسی طور پر ٹی ایم سی کی طرف مائل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مکمل طور پر آئینی طور پر جائز ہے، حالانکہ سیاسی اور اخلاقی نقطہ نظر سے، یہ ٹی ایم سی کے ارادوں پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد