
علی گڑھ, 07 اپریل (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عالمی یومِ صحت کے موقع پر فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے زیر اہتمام ایک علاقائی سمپوزیم اور آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا موضوع “ٹوگیدر فار ہیلتھ: اسٹینڈ وِد سائنس” تھا، جسے انڈین انٹیگریٹڈ کمیونٹی ہیلتھ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے ترتیب دیا گیا۔ اس موقع پر ماہرینِ تعلیم اور صحت کے شعبہ سے وابستہ شخصیات نے موجودہ صحت کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔مہمانِ خصوصی پروفیسر ایس کے رسانیا، ڈائریکٹر لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج، نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ صحت کے میدان میں سائنسی اصولوں اور تحقیق پر مبنی طریقہ کار کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام کو صحت سے متعلق پھیلی غلط معلومات اور توہمات سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے “اے بی سی ڈی آف ہیلتھ” (آگاہی، وابستگی، عزم اور نظم و ضبط) کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک صحت مند معاشرہ بنانے کے لیے ان اصولوں پر عمل ضروری ہے۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے صحت کے شعبے میں درپیش نئے چیلنجز کا ذکر کیا اور بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر طبی سہولیات کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر زور دیا، خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ انہوں نے سائنسی سوچ اور متوازن طرزِ فکر کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔مہمانِ اعزازی پروفیسر اسفر علی خان (او ایس ڈی، وائس چانسلر) نے کہا کہ صحت کو صرف انسان تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اس میں ماحول اور حیوانات بھی شامل ہیں۔ اسی خیال کی تائید کرتے ہوئے ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر محمد اطہر انصاری نے انسانی، نباتاتی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی تعلق کو اجاگر کیا اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے غذائی تحفظ اور صاف پانی کی اہمیت پر زور دیا۔اس سے قبل فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے ڈین اور آرگنائزنگ چیئرمین پروفیسر سید محمد صفدر اشرف نے صحت کے میدان میں سائنسی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ اجمل خان طبیہ کالج کے پرنسپل پروفیسر بدرالدجیٰ خان نے خاص طور پر کمزور معاشی طبقات کے لیے سستی اور آسانی سے دستیاب طبی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔تعلیمی سیشن کے دوران جے این ایم سی کے شعبہ بایوکیمسٹری کے پروفیسر معین الدین نے لیکچر دیتے ہوئے بتایا کہ مصنوعی ذہانت، جینومکس اور متبادل نظامِ طب کے امتزاج سے مستقبل میں صحت کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی، خاص طور پر بیماریوں کی بروقت تشخیص اور پریسیژن میڈیسن کے میدان میں۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر صبا زیدی نے انجام دی، جبکہ اختتام ڈاکٹر عمار ابن انور کے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ