حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار کا حکومت پر حملہ، کسان، نظامِ انصاف اور جمہوریت پر سوالات اٹھائے
حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار کا حکومت پر حملہ، کسان، نظامِ انصاف اور جمہوریت پر سوالات اٹھائے بھوپال، 07 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے منگل کو بھوپال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کئی اہم موضوعات پر بی جے پی حکومت کو
مدھیہ پردیش کے حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار


حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار کا حکومت پر حملہ، کسان، نظامِ انصاف اور جمہوریت پر سوالات اٹھائے

بھوپال، 07 اپریل (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے منگل کو بھوپال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کئی اہم موضوعات پر بی جے پی حکومت کو گھیرا۔ انہوں نے گیہوں کی خریداری میں تاخیر، دتیا کیس، راجیہ سبھا انتخابات اور آر ایس ایس جیسے موضوعات پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ امنگ سنگھار نے کہا کہ ریاست کے کسان مسلسل حکومت کی لاپرواہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گیہوں کی خریداری کی تاریخیں بار بار بدلی جا رہی ہیں۔ پہلے مارچ، پھر یکم اپریل، 10 اپریل اور اب 9 اپریل طے کی گئی ہے۔ اس دوران بارش سے کسانوں کی فصل خراب ہو رہی ہے، لیکن حکومت صرف اعلانات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس مسلسل کسانوں کی آواز اٹھا رہی ہے اور انہوں نے خود بھی وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر کسانوں کے مسائل سے آگاہ کیا ہے۔ سنگھار نے سوال اٹھایا کہ بی جے پی سے وابستہ کسان تنظیمیں اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) جیسی تنظیمیں اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ کیا کسانوں کی فکر صرف انتخابات کے وقت ہی کی جاتی ہے؟

حزب اختلاف رہنما نے دتیا کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ’انتخابی آمریت‘ کی صورتحال بنتی جا رہی ہے اور آئینی اداروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ کانگریس کی لڑائی ہے اور انہیں عدلیہ سے جلد انصاف ملنے کی امید ہے۔

سنگھار نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی تاریخ حکومتیں گرانے اور ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت سے وابستہ رہی ہے، ایسے میں راجیہ سبھا انتخابات میں ’ہارس ٹریڈنگ‘ کے خدشے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ کانگریس مکمل طور پر متحد ہے اور تمام ارکانِ اسمبلی پارٹی کے مجاز امیدوار کے حق میں ووٹ دیں گے۔

سنگھار نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے آر ایس ایس پر دیے گئے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سنگھ جیسی پرانی تنظیم کی اب تک باضابطہ رجسٹریشن نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آزادی کے بعد طویل عرصے تک سنگھ کے دفتر پر ترنگا نہیں لہرایا گیا، جو ایک سنگین موضوع ہے۔ آخر میں سنگھار نے کہا کہ کانگریس جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور عوام سے جڑے مسائل کو مضبوطی سے اٹھاتی رہے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande