
علی گڑھ, 07 اپریل (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ فلسفہ میں دو روزہ قومی سمینار کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع بین المذاہب مکالمہ اورثقافتی ہم آہنگی تھا۔ اس سمینار میں ملک کے معروف دانشوروں اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی، جن میں پروفیسر اشوک ووہرا اور پروفیسر طارق اسلام بطور کلیدی مقرر شامل تھے۔
سمینار کا آغاز صدر شعبۂ فلسفہ ڈاکٹر عامر ریاض کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تنوع کو قبول کرنا موجودہ دور کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصور انسانی زندگی کے اہم اصولوں سے جڑا ہوا ہے اور معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال کی نظم سارے جہاں سے اچھا کا حوالہ دیتے ہوئے اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔پروفیسر اشوک ووہرا، سابق صدر شعبۂ فلسفہ، دہلی یونیورسٹی، نے اپنے کلیدی خطاب میں تھیوفوبیا، ہندو دھرم اور ہندوتوا کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے ہندو دھرم کو ایک ہمہ گیر اور برداشت پر مبنی مذہب قرار دیا، جبکہ ہندوتوا کو ایک سیاسی نظریہ بتایا جو تنگ نظری اور ثقافتی قوم پرستی کو فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھیوفوبیا کے استعمال سے معاشرے میں عدم برداشت اور تفریق بڑھتی ہے، جس کا اثر خاص طور پر اقلیتوں پر پڑتا ہے۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر طارق اسلام، سابق چیئرمین شعبۂ فلسفہ، اے ایم یو، نے ثقافت اور بین المذاہب مکالمہ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے درمیان مکالمہ آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس میں کئی طرح کے سماجی اور ثقافتی مسائل شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اکثر ثقافت، مذہب سے پہلے انسان کی شناخت بناتی ہے۔ انہوں نے عالمی حالات، یورپ کی کثیر ثقافتی صورتِ حال اور ہندوستان میں کمزور ہوتی سماجی ہم آہنگی کے تناظر میں اپنے خیالات پیش کیے۔ انہوں نے ثقافتی حقوق اور ذاتی آزادی کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔مہمانِ خصوصی پروفیسر ٹی این ستی شن، ڈین فیکلٹی آف آرٹس، اے ایم یو، نے اپنے خطاب میں سمینار کے موضوع کو نہایت اہم قرار دیا اور مقررین کے خیالات کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مباحث معاشرے میں مثبت سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔صدارتی خطاب میں اے ایم یو کے سابق قائم مقام وائس چانسلر نے مختلف تہذیبوں کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور ایران جیسے معاشرے اپنی ثقافتی گہرائی کے باعث منفرد ہیں، جبکہ مغربی معاشروں میں مفاد پرستی کا عنصر زیادہ نمایاں ہے۔ انہوں نے تنازعات کو ختم کرنے کے بجائے انہیں مثبت انداز میں حل کرنے پر زور دیا اور جوہان گالٹنگ کے نظریات کی روشنی میں تشدد کی مختلف اقسام پر گفتگو کی۔ انہوں نے افریقی فلسفہ اوبنٹو کا حوالہ دیتے ہوئے باہمی تعاون اور مشترکہ انسانیت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر سلمان صدیقی نے شکریہ ادا کیا، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر زید احمد صدیقی نے انجام دیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ