
اندور، 07 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے اندور میں این ایس یو آئی کے کارکنوں نے منگل کو دیوی اہلیہ وشو ودیالیہ (ڈی اے وی وی) کے آر این ٹی احاطے میں زوردار احتجاج کیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ہنگامے میں تبدیل ہو گیا۔ پولیس اور طلبہ کے درمیان جم کر دھکا مکی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے ضلع صدر رجت پٹیل سمیت 6 عہدیداروں کو گرفتار کر لیا۔
این ایس یو آئی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں طویل عرصے سے رزلٹ میں تاخیر، کاپیوں کی جانچ میں بے ضابطگی اور انتظامی بے اعتدالیاں برقرار ہیں۔ انہی مسائل کو لے کر سینکڑوں طلبہ دوپہر تقریباً 1.40 بجے کیمپس پہنچے اور احتجاج شروع کیا، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہا۔
احتجاج کے دوران ایک الگ ہی نظارہ دیکھنے کو ملا۔ پولیس کے مطابق، کچھ طلبہ رہنما احتجاج کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے لیے ریل بنانے میں بھی مصروف نظر آئے۔ کئی کارکن بار بار بیریکیڈز لانگھنے کی کوشش کرتے رہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی۔ پولیس کو مائیک سے اپیل کرنی پڑی- ’ریل کے چکر میں ایسا نہ کریں، شائستگی سے میمورنڈم دیں۔‘
جب مظاہرین زبردستی کیمپس میں داخل ہونے لگے تو پولیس نے انہیں روک دیا۔ اس دوران دونوں فریقین میں تیکھی نوک جھونک اور ہاتھا پائی ہوئی، جس میں کچھ طلبہ رہنماوں کے کپڑے تک پھٹ گئے۔ حالات بگڑتے دیکھ کر پولیس نے اہم عہدیداروں کو حراست میں لے لیا۔
ایڈیشنل ڈی سی پی رام سنیہی مشرا نے بتایا کہ مظاہرین کو مسلسل سمجھایا جا رہا تھا، لیکن وہ نہیں مانے اور دھکا مکی کرنے لگے۔ احتیاط کے طور پر 6 عہدیداروں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ دیگر کو سمجھا کر چھوڑ دیا گیا۔
گرفتاریوں کے باوجود این ایس یو آئی نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک یونیورسٹی انتظامیہ مسائل کا حل نہیں نکالتی، ان کی تحریک جاری رہے گی۔ تنظیم نے اسے طلبہ کے حقوق کی لڑائی قرار دیتے ہوئے اسے مزید تیز کرنے کی وارننگ دی ہے۔ احتجاج کی وجہ سے پورا احاطہ چھاونی میں تبدیل رہا اور کافی دیر تک کشیدہ صورتحال بنی رہی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن