
حیدرآباد، 7 اپریل (ہ س)۔تلنگانہ میں کینسر کے علاج کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بناتے ہوئے، ریاستی وزیر صحت دامودھر راج نرسمہا نے منگل کو نمس کینسر بلاک میں 33 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کردہ جدید نیئر ایکسلریٹر خدمات کا افتتاح کیا۔افتتاح کے بعد، دامودر راج نرسمہا نے وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکرکے ہمراہ انسٹی ٹیوٹ میں خواتین کے لیے کینسر اسکریننگ کیمپ کا بھی آغازکیا۔ وزیر صحت نے کہا کہ جدید ترین لینیئر ایکسلریٹر سہولت انتہائی درست ریڈی ایشن تھراپی کو ممکن بنائے گی، جوصحت مند بافتوں کو نقصان پہنچائے بغیر براہ راست ٹیومرس کو نشانہ بنائے گی۔ انہوں نے مزید بتایاکہ جدید ٹرو بیم ٹیکنالوجی کے ذریعے علاج کے بہتر نتائج کم وقت میں حاصل کیے جا سکیں گے۔ وزیر صحت نے ریاست میں کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر تشویش کا اظہار کیااور بتایا کہ سالانہ تقریباً 55,000 سے 60,000 نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے جلد تشخیص کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اگر کینسر کی ابتدائی مراحل میں شناخت ہو جائے تو یہ قابلِ علاج ہے۔
وزیر صحت نے کہا کہ حکومت کینسر کے علاج کی خدمات کو وسعت دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس میں تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں کینسر ڈے کیئر سینٹرز کا قیام اور ملوگو اور عادل آباد جیسے دور دراز علاقوں تک کیموتھراپی کی خدمات کی فراہمی شامل ہے۔
حفاظتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ تقریباً 4.6 ملین خواتین کی بڑے پیمانے پر ہیلتھ اسکریننگ کی جارہی ہے تاکہ جلد تشخیص کو یقینی بنایا جاسکے۔
انہوں نے ایچ پی وی ویکسینیشن پروگرام شروع کرنے کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت 14 سے 15 سال کی لڑکیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کے لیے مفت ویکسین لگائی جائے گی۔وزیر نے کہا کہ کینسر کو اب ایک نوٹیفائیڈ بیماری قرار دے دیا گیاہے اور کینسر رجسٹری سسٹم متعارف کرایا جارہا ہے تاکہ درست ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکے اور بہتر پالیسی سازی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ غریبوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو جدید علاج فراہم کیا جا سکے اور اب تمام سرکاری ہاسپٹلوں میں پیلئیٹو کیئر کی خدمات دستیاب ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کینسر کے خلاف جنگ میں حکومتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عوامی شرکت اور اجتماعی کوششیں بھی ناگزیر ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق