
نئی دہلی، 30 اپریل (ہ س)۔
دہلی کی ساکیت عدالت نے لال قلعہ دھماکہ کیس میں الفلاح یونیورسٹی کے بانی جاوید احمد صدیقی کی درخواست ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج شیتل چودھری پردھان نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ضمانت کی عرضی پر فیصلہ محفوظ رکھنے کا حکم دیا۔
عدالت نے 6 اپریل کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو نوٹس جاری کیا۔ ای ڈی نے 11 اپریل کو اپنا جواب داخل کیا۔ جاوید احمد صدیقی کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 18 نومبر 2025 کو گرفتار کیا تھا۔ فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی لال قلعہ دھماکے کے بعد سے تحقیقاتی ایجنسیوں کے ریڈار میں تھی۔ اس معاملے میں گرفتار تین ڈاکٹروں کا الفلاح یونیورسٹی سے تعلق پایا گیا، جس نے یونیورسٹی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا۔ ای ڈی نے جاوید کو دہشت گردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
16 جنوری کو ای ڈی نے جاوید احمد صدیقی اور الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ ای ڈی نے دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی طرف سے درج دو ایف آئی آر کے بعد اپنی جانچ شروع کی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ الفلاح یونیورسٹی نے نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (این اے اے سی) سے ایکریڈیشن حاصل کرنے کی جھوٹی اطلاع دی۔ ای ڈی نے کہا ہے کہ اس نے اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت الفلاح یونیورسٹی کے اثاثوں کو غیر رسمی طور پر ضبط کر لیا ہے۔
10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب ایک i10 کار میں دھماکہ ہوا۔ یہ کار عامر رشید علی کے نام پر تھی۔ دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔ یو جی سی نے الفلاح یونیورسٹی کے خلاف شکایت درج کرائی جس کے بعد کرائم برانچ نے جاوید احمد صدیقی کو گرفتار کر لیا۔ یو جی سی کی شکایت کے بعد دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے جاوید احمد صدیقی کے خلاف دو ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ