
پٹنہ،28اپریل(ہ س)۔آر جے ڈی لیڈر ریت لال یادو کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ہائی کورٹ نے ان کی درخواست خارج کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریت لال نے اپنی جیل کی سزا کو منتقل کرنے کی درخواست دائر کی تھی جسے پٹنہ ہائی کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔ فی الحال ریت لال یادو بھاگلپور جیل میں بند ہیں۔ واضح رہے کہ جیل میں رہتے ہوئے ریت لال یادو نے 2025 کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لئے تھے اور وہ الیکشن ہار گئے تھے۔
در اصل پٹنہ ہائی کورٹ نے باہوبلی لیڈر ریت لال یادو کی طرف سے ان کے تبادلے کو چیلنج کرنے والی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ مجاز اتھارٹی کی منظوری سے جاری کردہ حکم نامے کو محض اس لیے کالعدم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس پر ماتحت افسر کے دستخط ہوتے ہیں۔ یہ معاملہ 30 اکتوبر 2025 کو اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل (جیل خانہ اور اصلاحی خدمات) کے جاری کردہ ایک حکم نامے سے متعلق ہے۔
اس آرڈر کے تحت 30 اپریل 2025 کے ٹرانسفر آرڈر میں چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی۔ اس سے پہلے کے حکم میں ریت لال یادو کو بیور سنٹرل جیل سے بھاگلپور اسپیشل سینٹرل جیل منتقل کیا گیا تھا۔ عرضی گزار کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل راجیو کمار ورما نے دلیل دی کہ یہ حکم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے آئی جی) نے جاری کیا تھا، جب کہ بہار جیل مینول 2012 اور قیدی ایکٹ کے تحت صرف انسپکٹر جنرل (آئی جی) کو یہ اختیار حاصل ہے۔
جسٹس آلوک کمار پانڈے کی سنگل بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے پایا کہ یہ حکم دراصل انسپکٹر جنرل (جیل خانہ) نے منظور کیا تھا اور صرف اے آئی جی نے اس کی اطلاع دی تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ امن و امان اور سیکورٹی وجوہات کی بناء پر لیا گیا تھا اور اس میں کوئی من مانی یا اختیارات کا غلط استعمال نہیں تھا۔ بالآخر عدالت نے درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا اور انتظامی فیصلے کو برقرار رکھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan