دہلی میں فکسڈ کمپیکٹر ٹرانسفر اسٹیشن کی تعمیر کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا گیا۔
این جی ٹی نے قواعد کی پابندی پر زور دیا۔ نئی دہلی، 28 اپریل (ہ س) نیشنل گرین ٹریبونل کی پرنسپل بنچ نے دہلی کے بسائی دارا پور علاقے میں مجوزہ فکسڈ کمپیکٹر ٹرانسفر اسٹیشن کی تعمیر کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس پرکا
کارج


این جی ٹی نے قواعد کی پابندی پر زور دیا۔

نئی دہلی، 28 اپریل (ہ س) نیشنل گرین ٹریبونل کی پرنسپل بنچ نے دہلی کے بسائی دارا پور علاقے میں مجوزہ فکسڈ کمپیکٹر ٹرانسفر اسٹیشن کی تعمیر کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کو خارج کر دیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس پرکاش سریواستو اور ڈاکٹر افروز احمد پر مشتمل بنچ نے کی۔

درخواست گزار پراودھن رکھشا فاو¿نڈیشن نے الزام لگایا تھا کہ گڈڈ والا محلہ، بسائی درہ پور، پنجابی باغ (مغربی) میں قائم کیا جا رہا ایف سی ٹی ایس سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ کے جاری کردہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار اور سائٹ کے انتخاب کے اصولوں کی خلاف ورزی کررہا ہے اور یہ ایک گنجان آباد علاقے، مذہبی مقام اور ایک اسکول کے قریب واقع ہے۔

ٹربیونل نے پایا کہ جو دستیاب ریکارڈ اور ثبوت پیش کیے گئے ہیں ان سے سائٹ کے انتخاب کے معیار کی کوئی خلاف ورزی ظاہر نہیں ہوئی۔ ٹربیونل نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ٹھوس فضلہ کے انتظام کے لیے ایسے ٹرانسفرا سٹیشن ضروری ہیں اور منصوبے کا تقریباً 80 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔

ٹریبونل نے ہدایت دی کہ ایف سی ٹی ایس کو سی پی سی بی کے ایس او پی کے مطابق چلایا جائے اور دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے کہ آپریشن میں کوئی خلاف ورزی نہ ہو۔

مزید برآں، ٹریبونل نے علاقے میں کچرا اٹھانے کی جگہ کی بدانتظامی پر تشویش کا اظہار کیا اور عرضی گزار کو اجازت دی کہ وہ میونسپل کمشنر کو ثبوت کے ساتھ اپنی نمائندگی پیش کرے۔ ٹربیونل نے ہدایت کی کہ موصول ہونے پر متعلقہ اتھارٹی اس جگہ کی صفائی کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کرے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande