

ایم پی کابینہ : ترقیاتی پروجیکٹو کے لیے 26 ہزار 800 کروڑ روپے کی منظوری
۔ پسماندہ طبقات کے طلبہ کے لیے چھاتر گرہ یوجنا میں ترمیم، اب 1550 روپے کی جگہ 10 ہزار روپے ماہانہ ملے گا وظیفہ
بھوپال، 28 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں منگل کو منترالیہ میں کابینہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں ریاست کے مفاد میں کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ میٹنگ میں کابینہ نے ریاست کی ہمہ جہت ترقی اور عوامی بہبود کے لیے 26 ہزار 800 کروڑ روپے سے زائد کے اہم ترقیاتی پروجیکٹوں کی منظوری دی۔
ایم ایس ایم ای وزیر چیتنیہ کاشیپ نے میٹنگ میں لیے گئے فیصلوں کی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی سمت میں اہم قدم اٹھاتے ہوئے محکمہ تعمیرات عامہ کے آئندہ پانچ برسوں (2031-2026) کے مختلف تعمیراتی و تجدیدی پروجیکٹوں کے لیے 26,311 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے۔ وہیں، سماجی انصاف اور تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے کابینہ نے پسماندہ طبقات کے طلبہ کے لیے وظیفے کی رقم میں تاریخی اضافہ کر کے اسے 1,550 روپے سے بڑھا کر 10,000 روپے ماہانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، دیہی آبپاشی کے نظام کے لیے لکھندر مائیکرو اریگیشن پروجیکٹ اور ریاست کی 38,901 آنگن واڑیوں میں بجلی کی فراہمی کے لیے اہم مالیاتی پروویزن کیے گئے ہیں۔
وزیر کاشیپ نے بتایا کہ کابینہ کے ذریعے ضلع شاہ جہاں پور کے لکھندر ہائی پریشر مائیکرو اریگیشن پروجیکٹ کے لیے 155 کروڑ 82 لاکھ روپے کی انتظامی منظوری دی گئی۔ اس پروجیکٹ سے ضلع شاہ جہاں پور کی شاہ جہاں پور تحصیل کے 17 اور ضلع اجین کی ترانہ تحصیل کے 7 گاؤں، اس طرح کل 24 گاؤں کے 9 ہزار 200 ہیکٹیئر رقبے میں آبپاشی کی سہولت دستیاب ہوگی۔ پروجیکٹ کے تحت لکھندر ندی پر شاہ جہاں پور میں مکسی کے قریب پہلے سے تعمیر شدہ آبی ذخیرے سے 24.37 میٹرک کیوبک میٹر پانی نکال کر آبپاشی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کابینہ کی جانب سے محکمہ تعمیرات عامہ کے تحت سڑکوں کی تجدید، دفاتر کے قیام و مرمت، رہائش گاہوں کی دیکھ بھال سمیت اراضی کے حصول کے لیے معاوضے سے متعلق مختلف اسکیموں کے واسطے سولہویں مالیاتی کمیشن کی مدت (یکم اپریل 2026 سے 31 مارچ 2031) کے تسلسل کے لیے تقریباً 26 ہزار 311 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔
منظوری کے مطابق ہیڈ کوارٹر آفس کے قیام، سرکل آفس، دیکھ بھال و مرمت اور ڈویژنل آفس کے قیام سے متعلق اسکیموں کے لیے 6,180 کروڑ 57 لاکھ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سینٹرل روڈ انفراسٹرکچر فنڈ سے متعلق اسکیموں کے لیے 6 ہزار 925 کروڑ روپے، ایف ٹائپ سے اعلیٰ درجے کے سرکاری مکانات اور غیر رہائشی عمارتوں کی دیکھ بھال کے لیے 1 ہزار 680 کروڑ روپے اور زمین کے حصول کے معاوضے کے لیے 6 ہزار 500 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں انڈین روڈ کانگریس کو گرانٹ اور ڈکری کی رقم کی ادائیگی کے لیے 25 کروڑ 50 لاکھ روپے اور اہم ضلعی سڑکوں و دیگر ضلعی راستوں کی تجدید کے لیے 5 ہزار کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔
وزیر کاشیپ نے بتایا کہ کابینہ نے پسماندہ طبقہ اور اقلیتی بہبود کے محکمے کے زیرِ اہتمام دہلی میں واقع اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم مدھیہ پردیش کے پسماندہ طبقات کے طلبہ کے لیے ’’چھاتر گرہ یوجنا-2005‘‘ میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔ منظوری کے مطابق اب ہر سال کل 100 نئے طلبہ اس اسکیم سے مستفید ہوں گے، جس میں 50 نشستیں گریجویٹ اور 50 نشستیں پوسٹ گریجویٹ سطح کے طلبہ کے لیے طے کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، جو طلبہ پہلے سے اس اسکیم کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، انہیں ان کے کورس کی مدت مکمل ہونے تک مدد ملتی رہے گی۔ وظیفے کے طور پر ملنے والی 1,550 روپے کی رقم کو اب بڑھا کر براہِ راست 10 ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ اسکیم کا فائدہ اٹھانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ طالب علم پسماندہ طبقہ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے لیے اہل ہو اور اس کے والدین کی سالانہ آمدنی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ حد کے اندر ہو۔
ایم ایس ایم ای وزیر کاشیپ نے بتایا کہ ریاست میں معیاری طبی تعلیم کی توسیع اور دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے گاندھی میڈیکل کالج بھوپال کے لیے ریڈیو تھیریپی ڈپارٹمنٹ کی او پی ڈی، لینیئک مشین بنکر، بون میرو ٹرانسپلانٹ یونٹ اور کیتھ لیب کی تعمیر کے لیے 79 کروڑ 16 لاکھ روپے کی انتظامی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ نے شیام شاہ میڈیکل کالج ریوا کے تحت سپر اسپیشلٹی اسپتال کی توسیع کے لیے 174 کروڑ 80 لاکھ روپے کی انتظامی منظوری فراہم کی ہے۔
وزیر کاشیپ کے مطابق، کابینہ نے محکمہ ترقیِ خواتین و اطفال کے تحت بجلی سے محروم 38,901 آنگن واڑی عمارتوں میں بجلی کے انتظامات سے متعلق اسکیم کے لیے 80 کروڑ 41 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے۔
منظوری کے مطابق ریاست میں کام کرنے والی کل 97,882 آنگن واڑی مراکز میں سے بجلی کے بغیر 38,901 محکمانہ آنگن واڑی عمارتوں میں بجلی کا انتظام کیا جائے گا۔ بجلی کی فراہمی سے ٹیوب لائٹ، پنکھا، کولر، اسمارٹ ٹی وی اور واٹر پیوریفائر وغیرہ کا مناسب استعمال ہو سکے گا اور محکمانہ اسکیموں کا بہتر طریقے سے نفاذ ہوگا۔ آنگن واڑی مراکز کے بچے سازگار ماحول میں تعلیم اور دیگر سہولیات حاصل کر سکیں گے۔ مالی سال 27-2026 سے 31-2030 تک کل 38,901 آنگن واڑی عمارتوں میں بجلی پہنچانے کا ہدف ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن