
جموں, 28 اپریل (ہ س)جموں و کشمیر حکومت نے ریلائنس جنرل انشورنس کمپنی لمیٹڈ کو دو سال کے لیے بلیک لسٹ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
سرکاری حکم نامے کے مطابق سال 2018 میں حکومت نے ایک شفاف ٹینڈرنگ عمل کے بعد ٹرینیٹی ری انشورنس بروکرز لمیٹڈ اور ریلائنس جنرل انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ ایک سہ فریقی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت سرکاری ملازمین اور دیگر مستحقین کے لیے گروپ میڈیکلیم انشورنس اسکیم نافذ کی گئی تھی۔
معاہدے کے تحت تقریباً 3.5 لاکھ ملازمین کے لیے 61 کروڑ روپے سے زائد اور 1506 پنشنرز کے لیے 66 لاکھ روپے سے زائد کی پہلی قسط بطور پریمیم ادا کی گئی تھی۔ تاہم اسکیم کے نفاذ کے فوراً بعد مختلف حلقوں اور ملازمین کی جانب سے معاہدے پر سنگین خدشات ظاہر کیے گئے۔
بعد ازاں معاہدے کی شق 43 (ایچ) کے تحت 30 نومبر 2018 کو کمپنی کو ایک ماہ کا نوٹس دیا گیا اور 31 دسمبر 2018 سے معاہدہ ختم کر دیا گیا۔
حکومت نے معاملہ اینٹی کرپشن بیورو کے سپرد کیا، جس نے تحقیقات کے دوران پایا کہ کمپنی نے 3344 ملازمین اور پنشنرز کے کلیمز کی مد میں تقریباً 17.25 کروڑ روپے ادا کیے، جبکہ اے سی بی نے محکمہ کو ہدایت دی کہ باقی 44.85 کروڑ روپے بطور غیر استعمال شدہ پریمیم کمپنی سے وصول کیے جائیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی متعلقہ شق کے تحت کمپنی پر لازم تھا کہ وہ غیر استعمال شدہ رقم بمعہ ٹیکس واپس کرے، تاہم اس میں ناکامی کے باعث حکومت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے کمپنی کو دو برس کے لیے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر