سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائرکٹر اور ریٹائرڈ اے سی پی کو 25 سال پرانے چھاپہ کیس میں تین ماہ قید کی سزا
نئی دہلی، 28 اپریل (ہ س)۔ تیس ہزاری عدالت نے سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر رمنش اور ریٹائرڈ اے سی پی وی کے پانڈے کو، جو ایک آئی آر ایس افسر کے گھر پر مبینہ چھاپے کے 25 سال پرانے معاملے میں قصوروار پائے گئے تھے، کو تین ماہ کی قید اور 50،000 روپے جرما
سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائرکٹر اور ریٹائرڈ اے سی پی کو 25 سال پرانے چھاپہ کیس میں تین ماہ قید کی سزا


نئی دہلی، 28 اپریل (ہ س)۔ تیس ہزاری عدالت نے سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر رمنش اور ریٹائرڈ اے سی پی وی کے پانڈے کو، جو ایک آئی آر ایس افسر کے گھر پر مبینہ چھاپے کے 25 سال پرانے معاملے میں قصوروار پائے گئے تھے، کو تین ماہ کی قید اور 50،000 روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس ششانک نندن بھٹ نے 18 اپریل کو سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر رمنش اور ریٹائرڈ اے سی پی وی کے پانڈے (اس وقت سی بی آئی میں تعینات) کو تعزیرات ہند کی دفعہ 323، 427، 448 اور 34 کے تحت مجرم قرار دیا۔ یہ معاملہ 1985 بیچ کے آئی اے ایس افسر اشوک اگروال کی شکایت سے متعلق ہے، جو اس وقت دہلی میں انفورسمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات تھے۔

اگروال نے الزام لگایا تھا کہ 19 اکتوبر 2000 کو ان کے گھر پر چھاپہ، تلاشی اور گرفتاری مکمل طور پر غلط اور بدنیتی پر مبنی تھی۔ تیس ہزاری کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ یہ چھاپہ مکمل طور پر 28 ستمبر 2000 کے سنٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (سی اے ٹی) کے حکم کو روکنے کے لیے مارا گیا تھا، جس نے چار ہفتوں کے اندر اگروال کی معطلی کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے کہا کہ اس حکم کی تعمیل کرنے کے بجائے، سی بی آئی افسران نے 18 اکتوبر 2000 کی شام کو ایک خفیہ میٹنگ کی اور اشوک اگروال کے گھر پر چھاپہ مارنے اور اگلی صبح انہیں گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا۔عدالت نے کہا کہ اشوک اگروال کے گھر کی تلاشی اور گرفتاری نہ صرف غیر قانونی تھی بلکہ اس نے اپنے اختیارات کا واضح طور پر غلط استعمال بھی کیا۔ افسران نے اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے ایک معصوم افسر کو ہراساں کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande