
نئی دہلی، 28 اپریل (ہ س)۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے منگل کو اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں کہا کہ مرکزی حکومت نے قانون ساز اسمبلیوں اور لوک سبھا میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو یقینی بنانے کے لیے ”'ناری شکتی وندن ایکٹ، 2023“ کو منظور ی دی تھی ۔ اس کے لیے 131ویں آئینی ترمیم کا بل بھی پیش کیا گیا تاکہ خواتین کو جلد فوائد مل سکیں۔ لیکن 16، 17 اور 18 اپریل کے دن ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ میں ایک افسوسناک باب کے طور پر درج ہوئے ہیں۔ ان دنوں ملک بھر کی خواتین اس امید کے ساتھ لوک سبھا کی طرف دیکھ رہی تھیں کہ 78 سال کا طویل انتظار اب ختم ہوگا اور انہیں قانون ساز اسمبلیوں اور لوک سبھا میں نمائندگی کا موقع ملے گا۔ لیکن ان دنوں ہونے والی بحث سے مایوسی ہی ہوئی۔
وزیر اعلی نے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ پر بحث کے دوران کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خواتین اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوں۔ اب یاچنا( التجا )نہیں رن (جنگ)ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کافی عرصے سے خواتین دیکھ رہی ہیں کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کے ذریعہ صرف دکھاوے اور سازشیں ہی کی گئی ہیں لیکن انصاف کو یقینی نہیں بنایا گیا۔ ملک کی خواتین اب اپنی لڑائی خود لڑنے میں اہل ہیںاور پورے ملک میں اتحاد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ اب ہر طرف سے ایک آواز اٹھ رہی ہے: 'ناری شکتی وندن ایکٹ' کو لاگو کیا جانا چاہیے اور یہ ہوکر رہے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خواتینریزرویشن اس لئے ضروری ہیں کیونکہ خواتین کو مردوں کے مقابلے زیادہ سماجی رکاوٹوں اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس لیے صرف حقوق نہیں بلکہ خصوصی تجاویز ہی مساوی مواقع کو یقینی بناتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ریزرویشن اور عوامی حمایت کے ذریعہ ہی انہیں عوام کی خدمت کا موقع فراہم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں کے لیے منتخب ہوتی ہے، لیکن قانون ساز اسمبلی اور پارلیمنٹ میں ان کی شرکت کم رہتی ہے۔ ملک کے تقریباً 4,600 ایم ایل اے میں سے صرف 10 فیصد خواتین ہیں اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ان کی حصہ داری صرف 13-14 فیصد کے قریب ہے، جو مواقع کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئین نے خواتین کو مساوی حقوق اور ووٹ ڈالنے کا موقع تو فراہم کیا، لیکن اس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکیں اور انہیں سیاسی مواقع سے محروم رکھا گیا ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خواتین ریزرویشن بل 27 برسوں میں سات بار پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا لیکن ہر بار اسے روک دیا گیا۔ بہت سی جماعتوں نے رکاوٹیں کھڑی کیں اور خواتین کے کردار کو محدود رکھا، جبکہ بی جے پی نے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نے ”ناری شکتی وندن ایکٹ 2023“ متعارف کرایا جو خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کی سمت ایک تاریخی قدم تھا۔ اس کے نفاذ میں تکنیکی عمل جیسے کہ حد بندی وغیرہ کی وجہ سے تاخیر ہونے کے امکانات کے پیش نظر حکومت نے اس کے نفاذ کو تیز کرنے کے لیے ضروری ترامیم کی تجویز پیش کی۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اعتراضات اٹھا کر اور تکنیکی مسائل کا حوالہ دے کر بل کو منظور ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ یہ واضح طور پر خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ایک بل کا نہیں ہے بلکہ ملک کی نصف آبادی کے حقوق اور وقار کا ہے۔ کسی بھی مرد نمائندے کے لیے اپنی نشست چھوڑ کر کسی خاتون کو دینا آسان فیصلہ نہیں ہوتا ۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک مسودہ تجویز کیا گیا جس کے تحت خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس انتظام سے علاقائی جماعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا اور جنوبی ہند کی ریاستوں میں نشستوں پر بھی کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ اپوزیشن کو اس تجویز پر کس بات پر اعتراض تھا، جبکہ اس میں تمام جماعتوں کے مفادات کو مدنظر رکھا گیا تھا۔
وزیر اعلی نے کہا کہ او بی سی خواتین کے لئے کوٹہ کے اندر کوٹہ کا مطالبہ محض ایک بہانہ کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ ماضی میں اس سمت میں کوئی ٹھوس پہل نہیں کی گئی۔ مختلف تکنیکی اور سیاسی مسائل کا حوالہ دے کر اس بل کو موخر کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ اصل مقصد خواتین کو ان کے حقوق فراہم کرنا تھا۔ آج خواتین کے نام پر مسائل کو پیچیدہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کبھی 543 سیٹوں کی بات ہوتی ہے، کبھی 850 سیٹوں کی، کبھی حد بندی کی، کبھی علاقائی توازن کی بات ہوتی ہے۔ اس بل کی منظوری نہ ہونے کے بعد جس طرح بعض جماعتوں کے ذریعہ جشن منایا گیا، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔
وزیراعلی نے عام آدمی پارٹی ( آپ ) کی سوچ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالتی عمل سے بچنے کے لئے ستیاگرہ جیسی مقدس اصطلاح کا غلط استعمال کرنا غلط ہے۔ مہاتما گاندھی کے نظریے کا یہ استعمال افسوسناک ہے اور اصطلاحات میں ایک سنگین تضاد کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ایک خاتون جج کے ذریعے انصاف فراہم کیا جاتا ہے، تو کچھ لوگ اسے قبول نہیں کرپاتے ، جو کہ خاتون مخالف ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس طرح کا رویہ ایوان کی کارروائی پر اثر انداز ہوتا ہے اوریہ ”میری مرضی “ والی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں افراد خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور عدالتی عمل کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی شخص خود ہی مجرم، گواہ، وکیل اور جج بننے لگے، یہ جمہوریت کے خلاف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف عدلیہ ہی انصاف کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کیا گیا ہے اور کئےگئے کام کا پھل سامنے آئے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد