
شولاپور ، 27 اپریل (ہ س)۔ شولاپور میں گزشتہ ایک ماہ سے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اوسط درجہ حرارت 44 ڈگری تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث شدید گرمی کی لہر نے ہوائی جہازوں کی پروازوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی کے سبب طیارے کے اڑان بھرنے میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے اور اس کا براہ راست اثر فضائی خدمات پر پڑ رہا ہے۔
حکام کے مطابق زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے طیارے مطلوبہ وزن کے ساتھ پرواز نہیں بھر پا رہے، جس کے نتیجے میں شولاپور سے ممبئی کے درمیان چلنے والی فضائی سروس کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اب یہ سروس یکم مئی سے لے کر 31 مئی تک ہفتے میں صرف دو دن، یعنی منگل اور جمعرات کو ہی چلائی جائے گی۔
یہ سروس پہلے ہفتے میں چار دن دستیاب تھی، بعد میں اسے روزانہ کر دیا گیا تھا، پھر مارچ میں دوبارہ چار دن تک محدود کیا گیا، جبکہ اب شدید گرمی کے باعث اسے مزید کم کر کے ہفتے میں دو دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یکم مئی سے شولاپور، تروپتی اور پونے کے درمیان نئی فضائی سروس شروع کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی تھی، تاہم ابھی تک اس کے لیے نشستوں کی بکنگ شروع نہیں کی گئی ہے۔ اس مجوزہ سروس کے تحت تروپتی، سولاپور اور پونے کے درمیان پرواز چلانے کی منصوبہ بندی ہے اور پونے ہوائی اڈے پر اس کے لیے وقت بھی مختص کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سولاپور سے ممبئی کے درمیان براہ راست فضائی سروس 15 اکتوبر 2025 سے شروع کی گئی تھی، جس کا افتتاح وزیراعلیٰ نے کیا تھا۔ ابتدائی طور پر یہ سروس ہفتے میں چار دن چلائی جاتی تھی اور سولاپور سے ممبئی کا سفر تقریباً 50 سے 55 منٹ میں مکمل ہو رہا تھا۔ اس سروس کو مسافروں کی جانب سے اچھا ردِعمل بھی حاصل ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے