
طلبہ کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود پر فوری توجہ وقت کی اہم ضرورت : پروفیسر اطہر انصاری
علی گڑھ، 27 اپریل (ہ س)۔ سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول میں ”مائنڈ میٹرز: اسٹوڈنٹ ویل بیئنگ سیریز“ کے تحت ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں تعلیمی اداروں میں ذہنی ودماغی صحت کو ترجیح دینے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔ یہ سیریز ایک مشترکہ اقدام ہے جسے ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر (ڈی ایس ڈبلیو)، ایڈوانسڈ سینٹر فار ویمنس اسٹڈیز (اے سی ڈبلیو ایس)، اسٹوڈنٹس کاؤنسلنگ سینٹر، شعبہ سائیکیاٹری، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، اے ایم یو اور انکلوزیو فیوچرز فاؤنڈیشن (آئی ایف ایف) منعقد کررہے ہیں۔ یہ اس سلسلے کی تیسری ورکشاپ تھی۔ پہلی دو ورکشاپ ایس ٹی ایس اسکول اور اے بی کے گرلز ہائی اسکول، اے ایم یو میں منعقد کی جاچکی ہیں۔
طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ایم اطہر انصاری، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئرنے تعلیمی کامیابی اور ذاتی نشوونما میں ذہنی صحت کے اہم کردار کا ذکر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کو ایسا ماحول فروغ دینا چاہیے جہاں طلبہ خود کو محفوظ محسوس کریں اور مدد حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کریں۔ پروفیسر صبوحی خان، ڈپٹی ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئرنے ”نوائز روم“ کے تصور پر مبنی ایک سیشن پیش کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ خود پر رحم اور مدد طلب کرکے منفی خیالات کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔
انہوں نے طلبہ کو غیر صحت مند موازنہ سے بچنے، اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرنے، اور ذہنی دباؤ اور بے چینی سے نمٹنے کے لیے ذاتی حکمت عملیاں اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے آگہی کے ساتھ عملی اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ سے ذہنی صحت کو ترجیح دینے اور اپنے ساتھیوں کی مدد کرنے کا عہد بھی لیا۔ ڈاکٹر جوہی گپتا، اسسٹنٹ ڈی ایس ڈبلیو اور صدر، آئی ایف ایف نے اس اقدام کے پس منظر اور وژن پر روشنی ڈالی اور طلبہ کی ذہنی صحت کے مسائل کے حل کے لیے ایک مشترکہ اور بین شعبہ جاتی طریقہ کار کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام ذہنی صحت سے متعلق گفتگو کو ایک معمول بنانے اور طلبہ کو زندگی کی ضروری مہارتوں سے لیس کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ورکشاپ میں ڈاکٹر عذرہ موسوی، ڈائرکٹر، اے سی ڈبلیو ایس بھی موجود رہیں۔
ڈاکٹر فیصل شان، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ سائیکیاٹری نے ”طلبہ میں بہتر ذہنی صحت کا فروغ“ موضوع پر خطاب کرتے ہوئے جذبات اور رویے کے مسائل کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی عملی تدابیر بتائیں، بروقت مدد حاصل کرنے کی ترغیب دی، اور تعلیمی و ذاتی زندگی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ڈاکٹر محمد آصف سراج، سینئر ریزیڈنٹ شعبہ سائیکیاٹری نے ”نوجوانوں میں منشیات کا استعمال: آگہی اور روک تھام“ کے موضوع پر گفتگو کی۔
انہوں نے نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خطرات کو اجاگر کیا اور ابتدائی مداخلت، آگہی اور سماجی تعاون کو روک تھام کے اہم ذرائع قرار دیا۔ اس سے قبل، پرنسپل جناب صباح الدین نے مہمانانِ گرامی کا استقبال کیا اور موجودہ حالات میں اس ورکشاپ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ آخر میں، نائب پرنسپل جناب اشہد جمال نے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شرکاء اور منتظمین میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ