
نئی دہلی،27اپریل(ہ س)۔سنٹر فار انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ (سی آئی ای)، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے فیکلٹی آف ڈینٹسٹری، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور یونیسیف انڈیا کے ساتھ مل کر یونیورسٹی میں چوبیس اورپچیس اپریل دوہزار چھبیس کو کامیابی کے ساتھ دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مختلف شعبوں بشمول ڈینٹسٹری، صحت کی دیکھ بھال اور اسپتال کا انتظام؛ ہندی ماس میڈیا؛ ثقافت، میڈیا اور گورنینس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ سی آئی ای،تیس سے زائد طلبہ، پرائیویٹ ایف ایم اسٹیشنوں کے ریڈیو جوکیز (آرجیز) سے سیکھنے اور ان سے تربیت حاصل کرنے نیز ریڈیو اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے حفاظتی ٹیکوں اور غیر متعدی امراض (این سی ڈیز) پر صحت عامہ کے مواصلات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے جامعہ ریڈیو کے سربراہ کے ساتھ بات چیت کے لیے جمع ہوئے۔
پروفیسر مظہر آصف، شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ورکشاپ کے شرکا کے لیے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ علمی ادارے بامعنی اشتراک کے ذریعے علم کو عمل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات طلبہ کو صحت عامہ کے موضوعات جیسے حفاظتی ٹیکوں اور این سی ڈیزکے ساتھ مشغول ہونے کے قابل بناتے ہیں جب کہ شواہد پر مبنی مواصلات، وسیع تر سماجی اثرات کے لیے ریڈیو اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے استفادہ کرتے ہیں۔پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شرکا کے لیے اپنے پیغام میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ تجرباتی آموزش اور سماجی مشغولیت کے لیے باہمی تعاون پر مبنی تعلیمی پلیٹ فارم ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات طلبہ کو صحت عامہ سے متعلق مسائل کے علم کو جدیدمواصلات میں تبدیل کرکے رسائی کو بڑھانے اور باخبر اور صحت مند کمیونٹیز میں اپنا حصہ تعاون دینے کے لائق بناتے ہیں۔ورلڈ امیونائزیشن ویک دوہزار چھبیس کے تھیم سے ہم آہنگ ”ہر نسل کے لیے ٹیکے مفید“ ورکشاپ نے افراد اور خاندانوں کی حفاظت میں ٹیکہ کے کردار کی توثیق کی۔ اس نے بچوں اور نوعمروں میں این سی ڈیز سے نمٹنے کے لیے روک تھام، ابتدائی آگاہی اور صحت مند طرز عمل کی روز افزوں اہمیت پر بھی توجہ مرکوز کی۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے، یونیسیف انڈیا کے کمیونیکیشن، ایڈوکیسی اور پارٹنرشپ کے سربراہ ظفرین چودھری نے کہا”بھارت کا حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام ہر سال لاکھوں بچوں اور حاملہ خواتین تک پہنچتا رہتا ہے، جو مضبوط نظام اور عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ بیداری اور دیکھ بھال جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنا اور نوجوان مواصلت کاروں کو شامل کرنا اور ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا جیسے پلیٹ فارم کا استعمال صحت مند رویوں کے متعلق مزید آگاہی اور فہم میں ممدو معاون ہو سکتا ہے۔“خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر ریحان خان سوری، ڈائرکٹر، سینٹر فار انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا ”تعلیمی ادارے علم کو عمل سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تعاون کے ذریعے طلبہ صحت عامہ کے موضوعات جیسے ٹیکہ کاری اور بچپن کے این سی ڈیز کے ساتھ براہ راست مشغول ہوتے ہیں اور ایسی کمیونیکیشن تیار کرتے ہیں جو ثبوت پر مبنی ہے اور جو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اثر ڈال سکتے ہیں اور ریڈیو کے پیغام کو متعدد کمیو نیٹیز تک ایک ساتھ پھیلا سکتے ہیں۔“
ورکشاپ نے طلبہ ریڈیو جاکیز، میڈیا سے وابستہ افراد اور صحت عامہ کے ماہرین کو ٹیکہ کاری اوراین سی ڈیز پر مرکوز اجلاس کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ نوجوان اعتماد پیدا کرنے، غلط معلومات کا مقابلہ کرنے اور اپنی برادریوں کے اندر طرز عمل کی تشکیل میں مدد کر سکتے ہیں۔یہ پہل یونیسیف انڈیا کے تعلیمی اداروں اور میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ کام کرنے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے تاکہ شواہد پر مبنی مواصلات کو مستحکم کیا جا سکے، عوامی اعتماد سازی جا سکے اور تمام کمیونٹیز میں صحت کے مثبت رویوں کی حمایت وتائید کی جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais