پانی کے ٹینکروں کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ
حیدرآباد ، 27 اپریل (ہ س)۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں پانی کے ٹینکروں کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ دیکھا جانے لگا ہے اور زیر زمین پانی کی قلت کے نتیجہ میں ٹینکروں کی طلب میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے ٹینکروں کو بھرنے کے مقامات میں اضاف
پانی کے ٹینکرس کی شہر ی طلب میں بے تحاشہ اضافہ


حیدرآباد ، 27 اپریل (ہ س)۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں پانی کے ٹینکروں کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ دیکھا جانے لگا ہے اور زیر زمین پانی کی قلت کے نتیجہ میں ٹینکروں کی طلب میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے ٹینکروں کو بھرنے کے مقامات میں اضافہ کیا جانے لگا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ شہر حیدرآباد میں جہاں یومیہ 2 تا 3 ہزار پانی کے ٹینکرس کی ضرورت پڑتی تھی اب ان علاقوں میں 7 ہزار تا 10 ہزار پانی کے ٹینکرس کی بکنگ وصول ہونے لگی ہے جو کے شہر کے 35 فلنگ اسٹیشن کے ذریعہ سپلائی کئے جارہے ہیں۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیدار نے بتایا کہ درگم چیروو، گچی باؤلی، نظام پیٹ، مادھاپور، حفیظ پیٹ ، منی کنڈہ ، کوکٹ پلی کے علاوہ دیگرعلاقوں میں جہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر کے علاوہ رہائشی عمارتیں موجود ہیں ان علاقوں میں ٹینکرس کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔

عہدیداروں کے مطابق دونوں شہروں میں فروری سے ہی پانی کے ٹینکرس کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اورکئی مقامات پر زیر زمین سطح آب میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے نتیجہ میں بورویل ناکارہ ہونے لگے ہیں اسی لئے ہمہ منزلہ عمارتوں میں روزانہ کے اساس پانی کے ٹینکرس طلب کئے جا رہے ہیں ۔شہر کے مذکورہ علاقوں کے علاوہ دیگر رہائشی علاقوں میں بھی پانی کی قلت ریکارڈ کئے جانے کے نتیجہ میں شہریوں کو سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اورملٹی نیشنل کمپنیوں کے علاوہ ہاسٹلس ، خانگی اداروں کے علاوہ دیگر مقامات پر خانگی پانی کے ٹینکرس من مانی قیمتوں میں فروخت کئے جا رہے ہیں ۔

محکمہ آبرسانی کی جانب سے ٹینکرس کی سپلائی کے معاملہ میں کہا جارہا ہے کہ شہریوں کو ٹینکرس کی بکنگ کے بعد ممکنہ حد تک جلد سے جلد ٹینکرس کی سپلائی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اورجلد ہی شہر کے مختلف مقامات پر 10 نئے فلنگ اسٹیشن قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ موسم گرما کے دوران پانی کی قلت پر قابو پانے کے اقدامات میں کسی بھی طرح کی کوتا ہی نہ ہو۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande