انتخابی مہم کے آخری دن گوگھاٹ میں تشدد ، بائیک ریلی پر حملے میں متعدد زخمی
ہگلی، 27 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی پولنگ سے قبل انتخابی مہم کے آخری دن ہگلی ضلع کے گوگھاٹ میں تشدد بھڑک اٹھا۔ الزام ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کی حمایت میں نکلنے والی بائیک ریلی پر اچانک حملہ کیا گیا۔ اس واقع
انتخابی مہم کے آخری دن گوگھاٹ میں تشدد ، بائیک ریلی پر حملے میں متعدد زخمی


ہگلی، 27 اپریل (ہ س)۔

مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی پولنگ سے قبل انتخابی مہم کے آخری دن ہگلی ضلع کے گوگھاٹ میں تشدد بھڑک اٹھا۔ الزام ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کی حمایت میں نکلنے والی بائیک ریلی پر اچانک حملہ کیا گیا۔ اس واقعے میں متعدد کارکن زخمی ہوئے اور علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔

بی جے پی ذرائع کے مطابق آخری دن کی مہم کے حصہ کے طور پر ایک بڑی بائک ریلی کا انعقاد کیا گیا جس کی قیادت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی حمایت سے گوگھاٹ اسمبلی حلقہ سے بی جے پی امیدوار پرشانت ڈگر نے کی۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ ریلی الیکشن کمیشن کے ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے اور ضروری اجازت حاصل کرتے ہوئے کنٹالی علاقے سے شروع ہوئی۔

الزام ہے کہ جب ریلی شیوڈا گرام پنچایت کے برما گاو¿ں میں پہنچی تو چاروں طرف سے اچانک حملہ شروع ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ریلی پر اینٹ اور پتھر پھینکے گئے، پانی سے بھری پانی کی بوتلیں، حتیٰ کہ پیٹرول بم اور آتشیں اسلحہ بھی استعمال کیا گیا۔ پورا علاقہ تشدد کا میدان بن گیا۔

بی جے پی امیدوار پرشانت دگار خود اس حملے میں شدید زخمی ہو گئے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ کم از کم 20 کارکن زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ پارٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ تین کارکن ابھی تک لاپتہ ہیں، جس سے خدشات مزید بڑھ رہے ہیں۔

اطلاع ملتے ہی پولیس اور مرکزی فورسز کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے مداخلت کرنا پڑی اور ہجوم کو آہستہ آہستہ منتشر کرنا پڑا۔

بی جے پی نے براہ راست ترنمول کانگریس کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ اسے کچھ انتہا پسند گروپوں نے انجام دیا ہے۔ تاہم اس معاملے پر ترنمول کانگریس کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کے سلسلے میں چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ پورے علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے، اور اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور حملے کی وجوہات اور ذمہ داروں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande