
حیدرآباد، 27 اپریل (ہ س) ۔ تلنگانہ جاگروتی کی صدر کویتا کی جانب سے نئی پارٹی کے اعلان کے بعد پارٹی کے نام کے مسئلہ پر الیکشن کمیشن میں قانونی لڑائی کا امکان ہے۔ کویتا نے تلنگانہ راشٹرا سینا کے نام سے نئی سیاسی پارٹی کا اعلان کیا جس کا مخفف ٹی آر ایس ہوتا ہے جو سابق میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے مماثل ہوتا ہے۔ ٹی آر ایس کے نام سے رائے دہندوں میں الجھن کا امکان ہے لہذا بی آر ایس کی جانب سے الیکشن کمیشن سے نمائندگی کی جاسکتی ہے۔ اسی دوران الیکشن کمیشن کے ذرائع نے کہا کہ بھلے ہی تلنگانہ راشٹرا سینا کا مخفف ٹی آر ایس ہوتا ہے لیکن چونکہ پارٹی کا نام یکساں نہیں ہے لہذا کمیشن کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ کمیشن کے ذرائع نے کہا کہ قواعد کے مطابق پارٹی کا نام کسی دوسری پارٹی کے مماثل نہیں ہوسکتا۔ تلنگانہ راشٹرا سینا اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں کوئی یکسانیت نہیں ہے۔ اسی گوشے سے ٹی آر ایس کے نام پر اعتراض کیا جاتا تو ایسی صورت میں الیکشن کمیشن نام کی تبدیلی کی ہدایت نہیں دے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ کویتا نے قانونی مشاورت کے بعد ہی پارٹی کا نام طے کیا ہے۔ واضح رہے کہ کے سی آر کی زیر قیادت ٹی آر ایس کو 2022 میں قومی سطح پر توسیع دیتے ہوئے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) میں تبدیل کیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق پارٹی کے نام میں کوئی ایسی یکسانیت نہیں ہوسکتی جس سے رائے دہندوں میں الجھن پیدا ہو۔ بی آرایس قائدین کا ماننا ہے کہ گزشتہ 20 برسوں سے زائد سے ٹی آر ایس کا نام کے سی آر سے جڑ چکا ہے اور اسی نام سے نئی پارٹی کے قیام کی اجازت کی صورت میں رائے دہندوں میں الجھن پیدا ہونا یقینی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بی آر ایس کی جانب سے اس معاملہ میں الیکشن کمیشن سے کیا شکایت کی جائے گی۔۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق