
ممبئی ، 27 اپریل (ہ س)۔ باگیشور دھام کے بابا دھیریندر شاستری کی جانب سے چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں دیے گئے قابلِ اعتراض بیان پر معافی مانگنے کے باوجود ان کے خلاف احتجاج تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس معاملے پر این سی پی (شرد پوار گروپ) کے رکنِ اسمبلی روہت پوار نے ایک بار پھر ان پر مہاراشٹر میں پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب ریاستی وزیرچندرشیکھر باونکولے نے کہا ہے کہ شیواجی مہاراج کی توہین برداشت نہیں کی جا سکتی، تاہم جب دھیرندر شاستری معافی مانگ چکے ہیں تو مزید احتجاج کا جوازباقی نہیں رہتا۔روہت پوار نے اس معاملے پرحکمراں جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ایک بڑی جماعت کو چھوڑ کر پورے مہاراشٹر نے دھیریندرشاستری کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکمراں جماعتیں ان کی حمایت کیوں کر رہی ہیں اور کیا انہیں اس عظیم شخصیت سے بڑا سمجھا جا رہا ہے جو مہاراشٹر کی شناخت کی علامت ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ اس بابا کے پروگرام حکمراں جماعت کی سرپرستی میں منعقد ہو رہے ہیں۔ مہاراشٹر سنتوں اور عظیم شخصیات کی سرزمین ہے، ایسے میں باہر سے افراد کو بلا کر پروگرام کرانے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے ناگپور میں جاری پروگرام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا۔روہت پوار نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری مداخلت کرتے ہوئے اس پروگرام کو بند کرے اور مستقبل میں دھیرندر شاستری کے مہاراشٹر میں داخلے پر مستقل پابندی عائد کی جائے۔ہندوستھان سماچار۔
ہندوستان سماچار / جاوید این اے