ٹائر پگھلانے والی فیکٹری میں شدید آگ لگی
سنبھل، 26 اپریل (ہ س)۔ اترپردیش کے ضلع سنبھل میں بنیا ٹھیر تھانہ علاقے میں ٹائر سے تیل نکالنے والی فیکٹری میں شدید آگ لگ گئی۔ دو گھنٹے تک فیکٹری آگ سے دہکتی رہی۔ فائر بریگیڈ کی چھ گاڑیوں نے سخت مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا۔ بنیا ٹھیر تھانہ علاق
فوٹو آگ بجھاتے فائر فائٹرز کی


سنبھل، 26 اپریل (ہ س)۔ اترپردیش کے ضلع سنبھل میں بنیا ٹھیر تھانہ علاقے میں ٹائر سے تیل نکالنے والی فیکٹری میں شدید آگ لگ گئی۔ دو گھنٹے تک فیکٹری آگ سے دہکتی رہی۔ فائر بریگیڈ کی چھ گاڑیوں نے سخت مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا۔

بنیا ٹھیر تھانہ علاقے میں گمتھل روڈ پر ٹائر سے تیل نکالنے والی فیکٹری میں صبح تقریباً 4 بجے فیکٹری کے احاطے میں واقع پرانے ٹائروں کے گودام میں آگ لگ گئی۔ ربڑ کے ٹائروں میں لگی آگ بے قابو ہو گئی۔ موقع پر پہنچی فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کی کوشش کی۔

آگ کی خوفناک شکل دیکھ کر محکمہ فائر سروس نے سنبھل اور مراد آباد سے ایک ایک کر کے چھ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بلا لیں اور محکمہ نے کڑی مشقت کر کے آگ کو بجھایا۔ چیف فائر آفیسر کرشن کانت اوجھا نے فیکٹری میں لگی تمام مشینوں کو محفوظ بچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب، شدید بدبو اور دھواں پھیلا کر چلنے والی اس طرح کی فیکٹریوں کے قانونی ہونے پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ آخر فیکٹری قانونی ہے یا غیر قانونی، آگ سے بچاو کے آلات موجود تھے یا نہیں، اس کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔

اس سلسلے میں معلومات دیتے ہوئے چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ ’بھارت پیٹرو ٹریڈرز‘ میں آگ لگی تھی، یہاں ٹائروں کو ریسائیکل کر کے موبل آئل نکالا جاتا ہے جسے بعد میں استعمال میں لایا جاتا ہے۔ گودام میں رکھے پرانے ٹائروں میں شدید آگ لگی تھی۔ جب فائر اسٹیشن کو اطلاع ملی اور ہم لوگوں نے آ کر دیکھا تو آگ خوفناک شکل اختیار کر چکی تھی۔ مختلف مقامات سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں منگوا کر چاروں طرف سے گھیر کر آگ پر قابو پایا گیا۔ اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande