
جموں, 26 اپریل (ہ س)۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اعضاء عطیہ کرنے کا عہد کریں، کیونکہ یہ زندگی بخشنے کا ایسا تحفہ ہے جسے تمام مذاہب میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ’نمن دیوس‘ کے موقع پر کہا کہ معاشرے کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہم میں سے ہر فرد ممکنہ عطیہ دہندہ ہے اور ہر شخص میں یہ غیر معمولی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنے انتقال کے بعد بھی دوسروں کی زندگیاں بچا سکتا ہے۔یہ دن اعضاء عطیہ کرنے والوں اور ان کے اہل خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اعضاء عطیہ کرنے والوں اور ان کے خاندانوں نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں خوشیاں بھری ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اسٹیٹ آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن جموں و کشمیر کے کردار کو سراہتے ہوئے اس کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا، کمیونٹی پروگرامز، تعلیمی اداروں، عبادت گاہوں اور دفاتر سمیت ہر پلیٹ فارم پر بیداری مہم کو مزید تیز کریں۔
منوج سنہا نے کہا کہ جو لوگ ثقافتی یا مذہبی خدشات کی وجہ سے ہچکچاتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری روایات زندگی کے تقدس اور بے لوث خدمت کی تعلیم دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روحانی رہنماؤں، خاندان اور سماجی بزرگوں سے مشورہ کرنے پر یہ واضح ہوگا کہ یہ عمل نہ صرف تمام مذاہب میں قابلِ احترام ہے بلکہ ایک نعمت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرنیہ عطیہ کرنے سے کسی نابینا شخص کی بینائی واپس لائی جا سکتی ہے، جس سے وہ زندگی کی خوبصورتی، بچوں کی مسکراہٹ اور طلوعِ آفتاب جیسے لمحات سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت یا کسی بھی ادارے کا کوئی اعزاز اس عظیم عطیے کی اصل قدر کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوٹو جموں و کشمیر اپنی مہمات، اسپتالوں اور این جی اوز کے ساتھ اشتراک اور طبی عملے کی تربیت کے ذریعے ایک انسان دوست تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے سوٹو کی ٹیم پر زور دیا کہ وہ مکالمے اور عوامی رابطوں کے ذریعے رجسٹریشن اور عہد ناموں میں اضافہ کریں۔ واضح رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر نے گزشتہ سال مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کے تحت آیوشمان بھارت آرگن ڈونیشن رجسٹری میں خود کو بطور عطیہ دہندہ رجسٹر کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر