انتخابی اصلاحات اور شہری بااختیار بناناکے موضوع پر دہلی میں پروگرام کا انعقاد
سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے اے آئی ای ایم اور لیگل کنیکٹ دہلی کے زیر اہتمام اسکالر اسکول کے آڈیٹوریم میں منعقدہ پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی نئی دہلی، 26 اپریل (ہ س)۔ آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ (اے آئی ای ایم) نے لیگل کنیکٹ دہلی کے تع
انتخابی اصلاحات اور شہری بااختیار بناناکے موضوع پر دہلی میں پروگرام کا انعقاد


سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے اے آئی ای ایم اور لیگل کنیکٹ دہلی کے زیر اہتمام اسکالر اسکول کے آڈیٹوریم میں منعقدہ پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی

نئی دہلی، 26 اپریل (ہ س)۔

آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ (اے آئی ای ایم) نے لیگل کنیکٹ دہلی کے تعاون سے آج اوکھلا میں واقع 'دی اسکالر اسکول' میں ’انتخابی اصلاحات اور شہری بااختیار بنانا‘ (Electoral Reforms and Empowering the Citizen) کے موضوع پر ایک قانونی آگاہی پروگرام کا کامیابی سے انعقاد کیا۔ پروگرام کی صدارت اے آئی ای ایم کے سرپرست اور تسمیہ ایجوکیشن سوسائٹی کے ڈاکٹر ایس فاروق نے کی، جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر سابق مرکزی وزیر اور انڈین اسلامک کلچر سینٹر کے صدر سلمان خورشید نے شرکت کی۔پروگرام کے افتتاحی خطاب میں اے آئی ای ایم کے صدر ڈاکٹر خواجہ ایم شاہد نے انتخابات میں دولت اور عوامی طاقت کے اثر و رسوخ پر زور دیا اور اے آئی ای ایم کے بانی سید حامد کو خراج عقیدت پیش کیا۔بطور کلیدی مقرر، بھارت کے سابق ڈپٹی چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر نور محمد نے شہریوں کے حقوق اور انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے ’فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ‘نظام کے مقابلے میں 'متناسب نمائندگی' (Proportional Representation) کے نظام اور دیگر اصلاحاتی نکات پر خصوصی گفتگو کی۔ وہیں پروفیسر وی کے ترپاٹھی نے بطور خاص مہمان شرکت کی اور کارپوریٹ سیکٹر کو جمہوری نظام پر اثر انداز ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اسلم احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک میں ہونے والی انتخابی اصلاحات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اے آئی ای ایم کے جنرل سکریٹری عبد الرشید نے مہمانوں کا استقبال کیا، جس کے بعد ایڈوکیٹ زاہد اختر فلاحی نے ’لیگل کنیکٹ دہلی‘ کا تعارف پیش کیا۔دیگر مقررین میں ڈاکٹر خان یاسر نے بادشاہت پر جمہوریت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جمہوریت کو اکثریت پسندی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے سید قاسم رسول الیاس نے انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر بحث کی اور خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا کہ ’الیکٹورل بانڈز‘ موجودہ نظام کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے جدید انتخابات کی زمینی حقیقتوں اور چیلنجوں پر بھی روشنی ڈالی۔

پروگرام کا اختتام مہمان خصوصی جناب سلمان خورشید کے خطاب پر ہوا، جنہوں نے حکومتی تاثیر بڑھانے کے لیے طویل قانون ساز سیشنز کی وکالت کی اور جرمنی کے متناسب نمائندگی والے ماڈل پر بحث کی تجویز دی۔ پروگرام کا آغاز منصور غازی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، جبکہ دہلی ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ رئیس احمد نے ملک بھر سے آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔اس پروگرام میں ملک بھر کے قانونی ماہرین، سابق منتظمین اور سماجی رہنماو¿ں کے ساتھ مشاورت دہلی کے صدر ڈاکٹر ادریس قریشی، محمد الیاس سیفی، سینئر صحافی سید منصور آغا، ایڈوکیٹ شمس خواجہ،این آئی او ایس کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر عبد الصمد، سابق ڈی ایس پی اختر سیفی، قاضی محمد میاں، سابق وقف کمشنر و ایڈوکیٹ شہزاد، ایڈوکیٹ سلیم، شاہین کوثر، میرٹھ یونیورسٹی کے پروفیسر خالد، ایڈوکیٹ فرح ناز، جماعت اسلامی کے سکریٹری انعام الرحمن، اعجاز گوری اور سینکڑوں دیگر افراد نے بھارتی جمہوریت کے بدلتے ہوئے منظر نامے پر تبادلہ خیال کے لیے شرکت کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande