
مدھوبنی(سنگرام)2اپریل (ہ س )۔
شمالی بہارکے ضلع مدھوبنی کا سرحدی علاقہ جھنجھارپور اب ایک صنعتی ہب کے طورپر ابھررہاہے ، اس کا خواب ایک باپ نے دیکھاتھا اس خواب کو اب بیٹاپوراکررہاہے ، چند سال پہلے تک سیلاب اور خشک سالی کی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں گھرارہتاتھا جس کی وجہ سے اس اسمبلی حلقہ کے بیشتر گاوں کے رہائشیوںکی معاشی حالت قابل رحم تھی،اکثروبیشتراس علاقہ کے لوگوںکو سیلاب اور خشک سالی کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یہی بنیادی وجہ تھی کہ علاقہ کے لوگ روزگار اورذریعہ معاش کی تلاش میں ملک کے بڑے بڑے شہروں کارخ کیاکرتے تھے اور معاشی طورپر اپنے کوخودکفیل بنانے کی کوشش میں مصروف رہا کرتے تھے لیکن سب سے بڑی روکاوٹ یہ تھی کہ وہ اپنی محنت کی کمائی کازیادہ تر حصہ سال درسال نئے گھر کی تعمیر پر خرچ کردیتے تھے ۔ کیونکہ سیلاب کی تباہ کاریوںکے نتیجہ میں زیادہ تر لوگوںکے گھروںکو نقصان پہنچتاتھا انہی مشکلات کو دور کرنے کے مقصد سے اس وقت کے وزیر اعلیٰ آنجہانی ڈاکٹر جگرناتھ مشرا نے لوگوں کو ان کے شہروں اور دیہاتوں میں روزگار فراہم کرنے کی انتھک کوشش کی تھی تاکہ اس علاقے کے باشندوں کو اپنے علاقہ میں کام میسرہوسکے اوربڑے بڑے شہروںکی طرف ان لوگوں کی ہجرت کوکچھ حدتک روکا جاسکے،رورل ڈیولپمنٹ سنگرام کے چیئرمین محمد سعداللہ نے یہاں منعقد ایک تقریب میں کہاکہ ڈاکٹر مشرا نے اپنے آخری دنوںمیں شمالی بہار کے اس پسماندہ علاقہ کو ایک صنعتی مرکز کے طورپر ڈیولپ کرنے اور لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے مقصد سے، مدھوبنی کے جھنجھار پورعلاقہ کو صنعت وحرفت کاہب بنانے کا فیصلہ کیا تھاان کی مخلصانہ کوشش کا نتیجہ تھاکہ اس علاقے میں پیپر مل سے کاٹن مل تک قائم ہوئی۔ کسی وجہ سے ان کے دورحکومت میںیہ خواب پوری طرح شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔جس کاانہیں اپنی زندگی کے آخری لمحات تک افسوس رہا کہ وہ اپنے اسمبلی حلقہ کو صنعتی مرکز نہیں بنا سکے۔ لیکن جب انسان دوراندیشانہ طورپر خواب دیکھتا ہے تو اس میں وقت ضرور لگتا ہے لیکن وہ پورا ضرور ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ باپ نے خواب دیکھا اوراس کی بنیاد رکھ دی۔ بہار کے ترقی پسند وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے تعاون سے بیٹے نے اب اپنے باپ کے خواب کو تعبیر آشناکرنے کابیڑااٹھالیاہے ۔
قابل ذکرہے کہ پچھلی حکومت میں جھنجھارپور کے ایم ایل اے نتیش مشرا کو بہت کم وقت کے لیے وزیر صنعت کی ذمہ داری دی گئی تھی، جس کو نبھاتے ہوئے گزشتہ ایک سال میں مدھوبنی جھنجھار پور میں کاٹن مل اور بیگ بنانے کا کام شروع کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کے طور پر ایک جدید عمارت تعمیر کی گئی۔ آج، ساوی گلوبل فیشن کی ٹیکسٹائل اور چمڑے کی فیکٹری بن کر تیارہے۔ مدھوبنی ضلع کے پنڈول انڈسٹریل کمپلیکس کے علاقے میں 400 سو کروڑ روپے کا منصوبہ 28 مارچ 2026 سے کام کر رہا ہے، جس میں 12 ہزار لوگ اپنے شہر میں ایک ہی چھت کے نیچے روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ اسی طرح جھنجھار پور کے انڈسٹریل کمپلیکس میں بیگ فیکٹری کی جدید عمارت مکمل ہو چکی ہے اور جلد کام شروع کر دیاجائے گا، جس میں 2000 افراد ایک ہی چھت کے تلے کام کر سکیں گے اس سے علاقہ کے لوگوں کو اپنے گاوں کے قریب ہی روزگار مل سکے گا۔ یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ آج مقامی ایم ایل اے نتیش مشرا کی کوششوں سے شمالی بہار کا مدھوبنی ضلع صنعتی مرکز کے طور پر جانا جانے لگا ہے،کیونکہ مقامی ایم ایل اے اپنے والد سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مشرا کی طرح مثبت سوچ رکھنے والے لیڈرہیں ، اب وہ مدھوبنی ضلع کے سرحدی اضلاع دربھنگہ اور سپول کے لوہنا اور بھوتھا میں نئی صنعتیں چلانے کے لیے زمین حاصل کرکے صنعتی کمپلیکس بنانے کی معنی خیز کوشش کرر ہے ہیںجس کے لئے زمین کے حصول کا عمل جاری ہے۔ آنے والے چند دنوں میں سیمنٹ فیکٹری اور دیگر فیکٹریاںبھی اپنا کام کرنے لگیںگی۔ اس سے ہزاروںلوگوںکوروزگارملے گا۔ علاقہ کے لوگ آج اس بات پر فخر محسوس کر رہے ہیں کہ ہمارے ذریعہ منتخب کردہ نمائندہ اپنی اسمبلی حلقہ کے ساتھ ساتھ شمالی بہار کو بھی روزگار فراہم کرنے کی بھرپور کوشش میں مصروف ہیں تاکہ یہ پسماندہ علاقہ بھی ریاست کے دوسرے علاقہ کی طرح ترقی کرسکیں ۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ