
جبل پور، 02 اپریل (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے کٹنی سے بی جے پی رکن اسمبلی سنجے پاٹھک کو ہائی کورٹ نے جسٹس وشال مشرا سے رابطہ کرنے کی کوشش کے معاملے میں نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا ہے۔ چیف جسٹس سنجیو سچدیوا اور جسٹس ونے صراف کی ڈویژن بنچ نے اوپن کورٹ میں نوٹس لیتے ہوئے پوچھا ہے کہ کیوں نہ ان کے خلاف مجرمانہ توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔
یہ عرضی کٹنی کے رہائشی آشوتوش دیکشت نے دائر کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا کہ رکن اسمبلی نے اس وقت جج سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جب ان کے خاندان سے جڑی کانوں (کھدانوں) کا معاملہ عدالت میں زیرِ التوا تھا۔ یکم ستمبر 2025 کو جسٹس وشال مشرا نے خود اس کوشش کا انکشاف کیا تھا۔
جسٹس مشرا نے جانبداری سے بچنے کے لیے خود کو سماعت سے علیحدہ کر لیا اور مقدمے کو انتظامی سطح پر چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی، جس کے بعد انہوں نے عدالت کا رخ کیا۔
سماعت کے دوران رکن اسمبلی کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے انہیں جواب پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ معاملہ عدالتی آزادی، عوامی نمائندوں کے طرزِ عمل اور انتظامی جوابدہی سے بھی منسلک ہے۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ اس معاملے کی میڈیا رپورٹنگ پر روک لگائی جائے۔ ہائی کورٹ نے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ عدالت نے صرف لائیو پروسیڈنگ (براہِ راست کارروائی) پر روک لگائی، لیکن میڈیا کوریج پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن