
کولکاتا، 02 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال کے مالدہ ضلع کے کالیا چک-2 بلاک ڈیولپمنٹ آفس میں اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کے کام میں مصروف سات جوڈیشیل افسران کو بدھ کی دیر رات تقریباً آٹھ گھنٹے کے گھیراو کے بعد پولیس نے بحفاظت باہر نکالا۔ ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے کے الزام کو لے کر یہ احتجاجی مظاہرہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق کالیا چک، موتھابڑی اور سجا پور علاقوں میں اس وقت مظاہرے شروع ہو گئے جب اقلیتی طبقے کے کچھ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ معتبر دستاویزات ہونے کے باوجود ان کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ حکمراں جماعت ترنمول کانگریس سے منسلک ہیں۔ مظاہرین نے نیشنل ہائی وے 12 کے کچھ حصوں کو بھی مسدود کر دیا اور پولنگ سے پہلے فہرست میں درستی کا مطالبہ کیا۔
افسران کے مطابق، تین خاتون افسران سمیت سات جوڈیشیل افسران ایس آئی آر کے کام کے سلسلے میں بلاک آفس پہنچے تھے۔ اسی دوران دوپہر سے مظاہرین نے دفتر کا گھیراو شروع کر دیا۔ بعد میں آدھی رات کے بعد پولیس کی حفاظت میں انہیں وہاں سے نکالا گیا۔ بچاو مہم کے دوران پولیس کے قافلے پر حملے کی کوشش کی بھی خبر ہے۔ جائے وقوعہ سے سامنے آنے والے مناظر میں ایک گاڑی کے اندر ٹوٹے ہوئے شیشے بھی دکھائی دیے ہیں۔
واقعے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما سکانت مجومدار نے اس کے لیے ترنمول کانگریس کی قیادت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے مسئلے پر وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور دیگر رہنماوں کے مبینہ اشتعال انگیز بیانات کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
وہیں، ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش نے کہا کہ ان کی پارٹی قانون کو ہاتھ میں لینے کی حمایت نہیں کرتی۔ انہوں نے پورے واقعے کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی کی حمایت یافتہ کچھ چھوٹی جماعتیں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پولیس اور انتظامی افسران نے بتایا کہ سڑک کا جام کھولنے کے لیے مظاہرین سے کئی دور کی بات چیت کی گئی۔ صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم امن و امان کے مسئلے پر فی الحال تفصیلی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن