عالمی رابطوں کی ڈیجیٹل شہ رگوں کا تحفظ
از: گریراج اگروال، اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ نئی دہلی ہند۔ بحرالکاہل خطے کے وسیع سمندری پانیوں کے نیچے ایک ایسا نہایت اہم مگر زیادہ تر نظروں سے اوجھل نظام موجود ہے جو جدید دنیا کو متحرک رکھتا ہے۔ زیر سمندر موجود بحری مواصلاتی تار جو عام
عالمی رابطوں کی ڈیجیٹل شہ رگوں کا تحفظ


از: گریراج اگروال، اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ نئی دہلی

ہند۔ بحرالکاہل خطے کے وسیع سمندری پانیوں کے نیچے ایک ایسا نہایت اہم مگر زیادہ تر نظروں سے اوجھل نظام موجود ہے جو جدید دنیا کو متحرک رکھتا ہے۔ زیر سمندر موجود بحری مواصلاتی تار جو عام طور پر عوامی مباحث میں نظر انداز ہوجاتے ہیں، عالمی رابطہ کاری، اقتصادی تبادلے اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

نئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ کے ایک اقتصادی افسر کے مطابق ”زیر سمندر موجود مواصلاتی تار عالمی ٹریفک کا 95 فی صد سے زیادہ حصہ منتقل کرتے ہیں جو سرحد پار ادائیگیوں سے لے کر کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کی خدمات تک ہرچیز کو ممکن بناتے ہیں۔ چوں کہ بہت سے راستے ہند۔بحرالکاہل خطے کے حسّاس مقامات سے گزرتے ہیں ، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کا کٹاؤ یا مداخلت عالمی معیشت میں شدید کچوکے لگا سکتی ہے۔ “

یہی وجہ ہے کہ زیر سمندر موجود مواصلاتی تاروں کا تحفظ ایک اہم اسٹریٹجک مسئلہ بن چکا ہے۔

امریکہ اور ان متعدد ملکوں کو جوڑنے والے یہ تار معاشی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔مذکورہ افسر کے مطابق ”ایشیا پر مرکوز راستے امریکی ڈیجیٹل تجارت اور خدمات کی برآمدات کے بڑے حصے کو سہارا دیتے ہیں۔ ایک حالیہ اندازے کے مطابق زیر سمندر نظام کے ذریعے خطے کے ساتھ رابطہ امریکہ کی معیشت میں سالانہ تقریباً 169 ارب ڈالر کا اضافہ کرتا ہے۔“

وہ مزید وضاحت کرتی ہیں ”مصنوعی ذہانت اور کلاو?ڈ کے عہد میں یہی نظام کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔“ ان کا اشارہ رفتار، تحفظ اور لچک کو بڑھانے کے لیے بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بحرالکاہل کے پار اور علاقائی کیبل نظاموں میں سرمایہ کاری کی جانب تھا۔

اس کا اسٹریٹجک پہلو بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔وہ کہتی ہیں ”عسکری اعتبار سے یہی فائبر آپٹک نیٹ ورک امریکہ کے لیے قومی سلامتی، رسد فراہمی اور اتحادی کاروائیوں میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمیں انہیں جسمانی اور تکنیکی خطرات سے محفوظ رکھنا ہوگا کیونکہ یہ نیٹ ورک ہند۔ بحرالکاہل خطے میں طاقت کے استعمال کی نوعیت پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔“

محفوظ نیٹ ورک کی تعمیر

اس تناظر میں امریکی پالیسی بتدریج زیر سمندر کیبل ڈھانچے کو مستحکم بنانے اور ان نیٹ ورکس کی تعمیر و تحفظ کے اصول وضع کرنے پر مرکوز ہو ہورہی ہے۔ افسر کے مطابق محکمہ خارجہ کا ’کیبلس پروگرام‘ نئے تاروں کی تنصیب کے مقامات اور طریقہ کار، فراہم کنندگان کے انتخاب اور سلامتی کے معیارات کے تعین میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔“

حکومتوں اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے یہ پروگرام بہترین طریقۂ کار کو فروغ دیتا ہے، راستوں میں تنوع لاتا ہے، اور تخریب کاری، نگرانی اور غیر معتبر فراہم کنندگان پر ضرورت سے زیادہ انحصار جیسے خطرات کے خلاف حفاظتی اقدامات کو مضبوط کرتا ہے۔

’کیبل رابطہ کاری اور پائیداری کے لیے کواڈ شراکت داری‘ ان کوششوں کو مزید تقویت دیتی ہے، جس کے تحت امریکہ، ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا پورے خطے میں محفوظ رابطوں کے فروغ اور نیٹ ورک کی مضبوطی اور لچک بڑھانے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔

افسر کا کہنا ہے”یہ اقدامات قابل اعتماد سامان فراہم کرنے والوں کی حمایت کرتے ہیں ، بنیادی ڈھانچے کے اعلیٰ معیارات کو فروغ دیتے ہیں اور تاروں کے لیے ایسے راستے متعارف کرواتے ہیں جو کسی ایک مقام پر خرابی کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔“

ڈیجیٹل پائیداری کے لیے شراکت داری

اس بدلتے ہوئے تناظر میں ہندوستان ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ مذکورہ افسر اس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتی ہیں ”ہندوستان میں ڈیجیٹل کھپت تیزی سے فروغ پا رہی ہے، جہاں فی صارف ماہانہ 36 جی بی ڈیٹا استعمال ہوتا ہے، جو دنیا میں نمایاں سطح پر ہے۔“

وہ اس کے تقریباً ایک ارب انٹرنیٹ صارفین اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ڈیٹا انفراسٹرکچر کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔ مزید برآں، اس کا جغرافیائی مقام اس کی اہمیت کو دوچند کرتا ہے، کیونکہ یہ ایشیا، مشر ق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے اور اہم زیر سمندر راستوں کے عین اوپر واقع ہے۔

اس تبدیلی میں امریکی کمپنیاں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ نشاندہی کرتی ہیں ”بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے فراہم کرنے والی امریکی کمپنیاں ہندوستان کے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کا مرکزی ستون ہیں۔“ اور ان نئی سرمایہ کاریوں کا حوالہ دیتی ہیں جو کیبل کے ساحلی مراکز میں تنوع لاکر ہندوستان اور پورے خطے کی رابطہ کاری کو نئی جہت دے رہی ہیں۔ وشاکھاپٹنم اور ممبئی جیسے شہروں میں شروع ہونے والے حالیہ منصوبے ہندوستان کے زیر سمندر قائم راہداریوں کو وسعت دینے، نیٹ ورک کی لچک کو بڑھانے اور مصنوعی ذہانت کے پیمانے پر درکار ڈیٹا اور کلاؤڈ صلاحیت کو توقیت دینے کا مادّہ رکھتے ہیں۔

وہ مزید کہتی ہیں ”بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر امریکہ اور ہندوستان کا تعاون شفافیت ، قابل اعتماد سامان فراہم کرنے والوں اور محفوظ کیبل ڈیولپمنٹ کے اعلیٰ معیار کو فروغ دے کر علاقائی اصولوں کی تشکیل میں مدد دے سکتا ہے۔“

پوشیدہ زیر سطح خطرات

ان کے اہم کردار کے باوجود زیر سمندر تاروں کا یہ نظام مختلف نوعیت کی کمزوریوں سے دوچارہے۔ اس کی نشاندہی کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ” حیرت کی بات یہ ہے کہ سب سے عام خطرہ روزمرہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے حادثات ہیں۔“ اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں ”ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی کشتی اور جہازوں کے لنگر سالانہ تقریباً 150 رپورٹ شدہ واقعات کی بڑی وجہ بنتے ہیں۔ زلزلوں اور زیرآب زمین سرکنے جیسے قدرتی عوامل ان خطرات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

تاہم اصل تشویش دانستہ خلل اندازی کے بڑھتے ہوئے خدشات پر ہے۔ ان کے مطابق”کسی بحرانی صورت حال میں مخالف عناصر مواصلات اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کے لیے مواصلاتی تاروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔“ مزید برآں، تکنیکی سطح پر بھی کمزوریاں موجود ہیں، کیونکہ نگرانی اور جاسوسی کے لیے ان نیٹ ورکس کو ہدف بنایا جا سکتا ہے، جس سے ڈیٹا کے تحفظ پر سوالات اٹھتے ہیں۔ محدود متبادل راستوں جیسی ساختی خامیاں بھی خطرات کو بڑھاتی ہیں کیونکہ ٹریفک چند مخصوص راستوں پر مرتکز ہو جاتا ہے۔

افسر وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں ”تاروں کے کٹنے کی صورت میں اس کی مرمت میں مقام ، اجازت ناموں اور موسمی حالات کے باعث کئی دن بلکہ ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔“ بحیرۂ جنوبی چین اور آبنائے تائیوان جیسے متنازع خطوں میں اس طرح کی رکاوٹیں رابطوں کی رفتار کو کم، مالی سرگرمیوں کو متاثر، اور عسکری مواصلات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ اس سے ڈیجیٹل تجارت پر انحصار کرنے والی معیشتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

ویولینتھ فورم سے حاصل ہونے والی بصیرتیں

جولائی 2025 میں نئی دہلی میں ہونے والے ویولینتھ فورم نے فوری اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کے مطابق ”اہم نتیجہ یہ نکلا کہ زیر سمندر مواصلاتی تاروں کو بھی اوّلین اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔“

فورم کے شرکاء نے ضابطہ جاتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا، جن میں ہندوستان میں ایک مو?ثر مرکزی منظوری کے یکجا نظام کا قیام شامل ہے تاکہ تنصیب اور مرمت کے مراحل کو تیز تر بنایا جاسکے۔

انہوں نے اس امر کی اہمیت بھی اجاگر کی کہ تاروں کے لینڈنگ اسٹیشنوں کو چند ساحلی مراکز سے آگے بڑھا کر متنوع بنایا جائے اور اندرونی رابطہ کاری کو مضبوط کیا جائے تاکہ نظامی خطرات کم ہوں۔

مزید برآں، ہندوستان میں مرمتی تیاری ایک اہم خلاء کے طور پر سامنے آئی۔ افسر کے مطابق ”مرمتی جہازوں کو خرابی کے مقامات تک پہنچنے میں تاخیر ہوتی ہے جس سے خدمات میں تعطل کا دورانیہ طویل ہو جاتا ہے اور معاشی و سلامتی کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔“ مجموعی طور پر فورم نے واضح کیا کہ تاروں کے تحفظ ، معاشی سلامتی ، ڈیجیٹل لچک اور جغرافیائی سیاسی استحکام کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔

فورم میں صنعت کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان کو تاروں کی تنصیب کے لیے منظوریوں کے عمل کو مو?ثر اور تیز تر بنانا چاہیے اور ہنگامی مرمت کے لیے فوری اقدامات کی سہولت فراہم کرنی چاہیے تاکہ خرابیوں کا بروقت ازالہ ممکن ہوسکے۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بین الاقوامی تعاون کلیدی اہمیت کی حامل شئے ہے۔ ” خاص طور پر امریکہ اور ہندوستان کے درمیان مضبوط تعاون ، قابلِ اعتاد سپلائرس کے فروغ ، معلومات کے بہتر تبادلے اور ہند۔ بحر الکاہل خطے میں محفوظ کیبل ڈیولپمنٹ کے لیے مشترکہ معیارات کے قیام کو تقویت دے سکتا ہے۔ “

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande