
لکھنو¿، 15 اپریل(ہ س )۔
بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلی مایاوتی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کی تجویز کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک طویل انتظار رہا ہے، لیکن ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔بی ایس پی سربراہ مایاوتی بدھ کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ حکومت ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی برادریوں کی فلاح و بہبود سے متعلق پارٹی کی تجاویز پر دھیان دے۔ انہوں نے کانگریس ، بی جے پی اور ایس پی پر بھی حملہ بھی بولا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی اس پی کے بیس ووٹ ،دلتوں کو راغب کرنے کے لیے کچھ وقت سے مخالف جماعتوں کے پروگرا میں نیلے رنگ کے کپڑوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔اس کا دلتوں پر کچھ بھی اثر پڑنے والا نہیں ہے کیونکہ ان پر صرف بی ایس پی کے یلے رنگ کا ہی اثر پڑتا ہے ۔دیگر کسی اور رنگ کا نہیں ، یہ مخالفین کو دھیان میں رکھ کر چلنا چاہئے۔
بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ یہ مناسب ہوتا اگر خواتین کے ریزرویشن کا حقیقی حق مظلوم اور نظرانداز طبقات، خاص طور پر ایس سی-ایس ٹی او بی سی کمیونٹی کی سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر پسماندہ خواتین کو الگ سے فراہم کیا جاتا۔ اگر نہیں تو کیا ان طبقات کی خواتین کو ریزرویشن کا پورا فائدہ مل سکے گا؟ خواتین کے ریزرویشن کے اصل مقصد کے بارے میں بہت زیادہ شکوک و شبہات اور بہت زیادہ تذبذب ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن کو سیاسی مفاد کے بجائے خواتین کی حفاظت، احترام اور ترقی وغیرہ سے جوڑا جانا چاہیے، تب ہی اس کا حقیقی فائدہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں زیادہ تر معاملات میں فرقہ وارانہ اور ذات پات پر مبنی عناصر کے غلبے کی وجہ سے ملک کی خواتین کو زندگی کے ہر پہلو میں مساوات اور عزت نفس کا حق دینے کے ساتھ ساتھ وہ 'ہندو کوڈ بل' لا کر انہیں زبردست قانونی حقوق بھی دینا چاہا تھا۔جس سے مرکز کی س وقت کی کانگریس حکومت اپنے تنگ ذات پات کے اثر و رسوخ میں آ کر وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہیں مانا اور بعد میں اسے ٹکڑوں ٹکڑوں میں پاس کیا۔ او بی سی کمیونٹی کو ریزرویشن کے معاملے میں ٹھوس اقدامات کی کمی اور خواتین کی حفاظت اور وقار کو یقینی بنانے کے خلاف احتجاج میں بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راو¿ امبیڈکر کو اپنے وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔
مایاوتی نے کہا کہ مہاتما جیوتی با پھولے اور ان کی اہلیہ ساوتری بائی پھولے کے تاریخی تعاون کو کون بھول سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی بیوی اور آس پاس کی خواتین کو تعلیم کے زیورات سے نوازا اور ذات پات کے جبر کی مختلف شکلوں کو برداشت کرتے ہوئے خواتین کی طاقت کی حوصلہ افزائی کی۔
بی ایس پی سربراہ نے مزید کہا کہ اب جب خواتین کے لیے ملک کی پارلیمنٹ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ریزرویشن کی بات آگے بڑھ رہی ہے تو اس میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنا مناسب نہیں ہے۔ کانگریس نے اس مسئلے کو نظر انداز کیا تھا تو اب انہیں کیوں یاد کیا جا رہا ہے۔ بی ایس پی کا کہنا ہے کہ خواتین کی دکھی حالت کو دیکھتے ہوئے خواتین کے ریزرویشن کو تنگ پارٹی سیاست سے دور رکھ کر اسے جلد از جلد نافذ کرنا بہتر ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ