
نئی دہلی، 15 اپریل (ہ س): دہلی کی راوز ایونیو کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں ملزم کے طور پر رابرٹ واڈرا کو سمن جاری کیا ہے۔ خصوصی جج سوشانت چنگوترا نے رابرٹ واڈرا اور دیگر 11 ملزمان کو 16 مئی کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔
رابرٹ واڈرا کے علاوہ، عدالت نے ستیانند یاجی، کیول سنگھ ورک، میسرز اسکائی لائٹ ہاسپیٹیلیٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز اسکائی لائٹ ریئلٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز اسکائی لائٹ ریئل ارتھ اسٹیٹس پرائیویٹ لمیٹڈ، میسرز بلیو بریز ٹریڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ، ایم/ایس بلیو بریز ٹریڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈوغیرہ کو سمن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے 4 اپریل کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ سماعت کے دوران رابرٹ واڈرا نے کہاتھا کہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا کوئی مقدمہ نہیں بنتا۔ رابرٹ واڈرا کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے دلیل دی کہ عدالت کو ای ڈی کی طرف سے دائر چارج شیٹ کا نوٹس نہیں لینا چاہئے۔ 2 اگست 2025 کو عدالت نے واڈرا سمیت تمام ملزمان کو سمن جاری کیا۔ 17 جولائی 2025 کو ای ڈی نے رابرٹ واڈرا کے خلاف ہریانہ میں شکوہ پور اراضی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں چارج شیٹ داخل کی۔ اس میں واڈرا اور 10 دیگر کے نام ہیں، جن میں ان کی کمپنی، میسرز اسکائی لائٹ ہاسپیٹیلیٹی پرائیویٹ لمیٹڈ بھی شامل ہے۔ ای ڈی نے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں رابرٹ واڈرا اور ان کی کمپنی کی 37.64 کروڑ روپے کی 43 جائیدادیں ضبط کی ہیں۔
یہ معاملہ 2008 میں شروع ہوا۔ شکوہ پور، گروگرام میں زمین کا سودا ہوا۔ اسکائی لائٹ ہاسپیٹیلیٹی نے ساڑھے تین ایکڑ زمین محض 7.5 کروڑ (تقریباً 1.5 ملین ڈالر) میں خریدی۔ واڈرا اس کمپنی میں ڈائریکٹر تھے۔ یہ زمین اومکاریشور پراپرٹیز سے خریدی گئی تھی۔ 24 گھنٹے کے اندر، زمین کی ملکیت واڈرا کی کمپنی کو منتقل کر دی گئی۔ 2012 میں، اسکائی لائٹ ہاسپیٹیلیٹی نے وہی زمین ڈی ایل ایف کو 58 کروڑ (تقریباً 1.5 ملین ڈالر) میں بیچی، جس کے نتیجے میں کمپنی کو کافی منافع ہوا۔ اس معاملے میں 2018 میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی